شعیب رضا فاطمی
کون جانتا ہے کہ اسلامک سنٹر جسے اب ہم انڈین اسلامک کلچر سنٹر کے نام سے جانتے ہیں 1980کی دہائی میں ہمارے بزرگ سیاستدانوں کی نہ جانے کتنی آرزوؤں ،امنگوں اور جدوجہد کی عملی شکل تھی جو مفاد پرست سرپرستوں کی سیاسی بازیگری کا شکار ہو کر اپنی تشکیل کے مقصد سے کوسوں دور جا پڑی ۔قوموں کے انحطاط کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ دیگر اقوام کے مقابلے میں ہندوستانی مسلمانوں کو بے نام ونمود کرنے کی سازش میں شریک خود مسلمان ہی رہے ہیں ۔
آزادی کے بعد جو سیاسی سونامی ہمارے ملک میں آئی اس سے سب سے زیادہ مسلمان ہی متاثر ہوئے ۔عام طور پر یہی وہ وقت تھا جب ملت کے بہی خواہوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئے تھیں تاکہ وہ ان ادبار سے ملت کو باہر نکال کر انہیں روشن شاہراہ کی سمت لے جانے کی سعی کرتے ۔ٹھیک اسی طرح جیسے 1857کے بعد مسلمانوں کے درمیان سے سیکڑوں قائد ،مسلح ،تعلیمی پلانر ،اولوالعزم و جواں مرد وولنٹئیر ،صحافی ،ادیب ،شاعر اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی کوششوں نے پورے ملک میں برٹش حکمرانوں کے خلاف ایک ایسا ماحول خلق کر دیا تھا ،ایسے اداروں کا قیام کر دیا تھا کہ پھر انگریزوں کو سنبھلنے کا موقعہ نہ مل سکا اور محض 90برس میں انگریزوں کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑ گیا تھا ۔لیکن اسی قوم پر جب دوسرا مرحلہ بٹوارے کا آیا تو پھر سب کے قوی شل ہو گئے اور ذہن ماؤف ۔اور آج جب اس طوفان کو گذرے بھی 75سال ہو گئے ہم اٹھنے کے بجائے مزید قعر مذلت میں گرتے جا رہے ہیں ۔ہمارے ادارے تباہ ہو گئے ،اور جو لشٹم پشٹم چل بھی رہے ہیں ان کا قبلہ تبدیل ہو چکا ہے ۔اب اسے سانحہ نہیں تو اور کیا کہینگے کہ جس انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کا قیام اسلام اور اس کی تعلیم کے تئیں غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا ۔ایک ایسے اخلاقی سماج کی تعمیر میں تعاون کرنا جس کا نصب العین تھا جہاں عدم تشددہو ،عالمی امن و خیر خواہی ہو ،محبت و یگانگت ہو اور موجودہ اور ماضی کے تہذیبی مطالعہ اور باہم اطلاعات کے تبادلہ کے ذریعہ ہمدوستانی شہریوں اور اسلامی دنیا کے درمیان ایک مضبوط پل کا قیام ہو سکے ۔اس ادارے کاخواب دیکھ کر اسے منصہ شہود پر اتارنے والے اس ادارے کو ایک ایسا اسلامی سنٹر بنانا چاہتے تھے جس کو دیکھ کر یا جہاں آکر دنیا کے لوگ بھارت کے مسلمان ،ان کی رواداری اور کشادہ دلی کے قائل ہو جائیں ۔لیکن ملک کے متنوع شہریوں کے مابین رواداری اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی جگہ سیاسی بازیگروں نے اس ادارے کے قالب سے اس کی روح ہی نکال لی جو اس کی زندگی کا جواز تھا ۔اور اسے ایک ایسا کلب بنا دیا جہاں لوگ تفریح اور خوردو نوش کے لئے آتے ہیں ۔
انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کا قیام تو1981میں اندرا گاندھی کی ایما پر ہوا تھا ہوا اور جسٹس ہدایت اللہ ،جو اس وقت نائب صدر جمہوریہ تھے ۔بدرالدین طیب جی ،چودھری محمد عارف،اور حکیم عبد الحمید اس ادارے کے قیام میں پیش پیش تھے ۔موجود دستاویز کے مطابق 12اپریل 1981کو انڈیا اسلامک کلچرل سنٹرل بطور سوسائٹی رجسٹرڈ کرائی گئی اور پھر جملہ کاغذی کارروائی پوری کرنے کے بعد لودھی روڈ پر انگریزوں کے زمانے کی بنی دو کوٹھیوں کا قبضہ حاصل کیا گیا جس کا معاوضہ ساڑھے گیارہ لاکھ روپیہ حکیم عبدالحمید صاحب نے ادا کیا اور پھر 24اگست 1984کو وزیر اعظم اندرا گاندھی نے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کا باضابطہ افتتاح کر دیا ۔حکیم عبدالحمید سنٹر کے صدر بنائے گئے ،مفتی عتیق الرحمان عثمانی نائب صدر اور بدرالدین طیب جی کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ۔سید شفیع احمد جوائنٹ ڈائریکٹر ہوئے ،چودھری محمد عارف سکریٹری ،غلام نقشبند خزانچی اور بیگم عابدہ احمد ممبر بنائی گئیں ۔
دراصل ایک ایسے ادارے کا قیام خود وزیر اعظم اندرا گاندھی چاہتی تھیں جس ادارے پر کسی مخصوص مسلک کا سایہ نہ ہو اور جو تمام ملک کے مسلمانوں کی صحیع تصویر پیش کر سکے ۔اور اسی لئے محترمہ اندرا گاندھی نے لٹین زون میں اس سنٹر کے لئے جگہ فراہم کرائی ۔کون جانتا تھا کہ مسز گاندھی انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کا سنگ بنیاد رکھنے کے چند ماہ بعد ہی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کر دی جائینگی اور پھر ملک میں ایک ایسا بڑا طوفان اٹھیگا جس سے جمہوری طرز حکومت کی بنیاد ہی ہل جائینگی ۔
بہر حال اس دور استبداد میں بھی ،نفرت کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی ہمیں انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر ہی وہ واحد ادارہ نظر آتا ہے جسے اگر معقول لوگ آکر سنبھال لیں اور اس ادارے کے رخ کو اس کے اصل قبلہ کی طرف موڑ دیں تو ہندوستانی مسلمانوں کو نفرت و مخاصمت کی اس بند گلی سے باہر نکلنے کی راہ نظر آ سکتی ہے ۔
لیکن اس کے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ خود انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے ممبران ہی اس بات پر غور کریں کہ کیا موجودہ سیاسی و سماجی منظر نامہ میں یہ ممکن ہے کہ ایسا دوسرا ادارہ قائم کیا جا سکے ؟کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پورے ملک میں موجود سیکڑوں اداروں کے باوجود یہ واحد ادارہ ہے جہاں نہ کسی مسلک کا ٹھپہ ہے اور نہ کسی عقیدے کی دسترس ۔یہاں آنے سے نہ کسی کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو خود بھی آنے میں قباحت ہے ۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس ادارے کو ہم بھارت کے مسلمانوں پر لگائے جانے والے نت نئے بے بنیاد الزامات کی رد کے لئے ایک ریسرچ سنٹر بنا سکتے ہیں ۔بین المذاہب کانفرنس کر سکتے ہیں مذاکرے ، سمپوزیم اور ورک شاپ کر سکتے ہیں ۔جس کے ذریعہ ہم ملک کے ہر شہری کو دعوت دے سکیں کہ آؤ اور آکر دیکھو کہ ہمارا مذہب اسلام سوائے خیر کے اور کس چیز کی دعوت دیتا ہے ۔
مجھے اس موضوع پر بالکل بات نہیں کرنی کہ کس نے اور کیوں ایک طویل عرصہ تک اس ملٹی پرپس ادارے کو اپنا کارپوریٹ آفس بنا کر رکھا ۔لیکن یہ بات بھی خلاف عقل ہے کہ کوئی بھی شخص تاحیات کسی ادارے کو آزاد نہ کرنے کی قسم کھا لے تو اس کے خلاف کوئی لب نہ ہلائے ۔ جبکہ سب کچھ عیاں ہے کہ اس ادارے سے کس نے صرف ذاتی مفاد حاصل کئے ۔موسی رضا نے کروڑوں روپئے گھوم گھوم کر چندہ بھی کیا اور اس کی پوری عمارت کی تعمیر بھی کرائی ۔لیکن اس وعدے پر کہ اس عمارت کے باقی تزئین و آرائش کے کام کو وہ پورا کرینگے انہوں نے خطیر رقم بامبے مرکنٹائل بینک سے لون لے لیا اور اس لون کی ادائگی کے لئے پورے ادارے کو ایک کمرشئیل کامپلیکس میں تبدیل کر کے عام مسلمانوں کا اس ادارے پر سے اعتبار ہی اٹھا دیا ۔اس سنٹر کا ریسٹورینٹ ایک طویل عرصہ سے لائزنرس کا اڈہ بنا ہوا ہے اور رہائشی کمرہ میں جو کچھ ان دنوں ہو رہا ہے وہ نہایت شرمناک ہے ۔خوف تو یہ بھی ہے کہ فورا ہی اگر اس ادارے کے ارباب حل و عقد کی آنکھیں نہ کھلیں تو اس ادارے سے کچھ ایسے شگوفے باہر نکلینگے جس کے بعد اسے اسلامک کلچرل سنٹر کہنے میں بھی شرم آئیگی ۔
یوں تو ملک کے تقریبا تمام ملی اداروں کا کم وبیش یہی حال ہے ۔اور ایسا لگتا ہے کہ یہ نیم جان ادارے بستر مرگ پر آخری سانس لے رہے ہیں اور ان اداروں کے ممبران و ارباب حل وعقد اس بستر کے آس پاس جشن منانے میں مصروف ہیں ۔اسلامک کلچر سنٹر اس کی سب سے تازہ مثال ہے ۔
کبھی کبھی یہ دیکھ کر بھی رونا آتا ہے کہ 3115لائف ممبر شپ کی موجودگی میں اس ادارے کو ایک شخص نے یرغمال کیونکر بنا لیا ؟جس ادارے میں 400سے زیادہ ایسوسی ایٹ ممبرس ہوں وہاں کوئی خود سر کیونکر ہو سکتا ہے ؟اور کمال یہ بھی ہے کہ اس ادارے کے کئی درجن ایسے ممبران سے میں خود واقف ہوں جو اعلی تعلیم یافتہ بھی ہیں اور ملت کی فکر بھی کرتے ہیں ۔ملک کے مختلف حصوں کے ملی کاز میں ان کا نمایاں کردار بھی سامنے آتا رہتا ہے ۔یہ اصحاب صاحب مال و کاروبار بھی ہیں اور ان کی روشن آنکھوں میں ملت کے لئے کچھ کرنے کا عزم بھی نظر آتا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں وہ بھی اس ادارے کو برباد ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور لب بستہ ہیں ۔












