نئی دہلی۔ ایم این این۔ جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی کینن نے بھارت کو اپنے لیے ایک “آر اینڈ ڈی آئی اوپنر” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں کے صارفین اور مارکیٹ نے اس کی تحقیق و ترقی کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث اس کے انجینئرز جاپان سے بھارت آ کر اپنی ہی مشینوں کے استعمال کے نئے طریقے سیکھ رہے ہیں۔ کینن انڈیا کے صدر اور سی ای او توشیاکی نومورا کے مطابق بھارت میں صارفین کی ضروریات اور ان کے استعمال کے منفرد طریقے کمپنی کے لیے حیران کن ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی صارفین اکثر کمپنی کی مشینوں کو ایسے طریقوں سے استعمال کرتے ہیں جو انجینئرز نے پہلے تصور بھی نہیں کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کینن کے جاپانی آر اینڈ ڈی انجینئرز باقاعدہ طور پر بھارتی شہروں کا دورہ کرتے ہیں تاکہ زمینی سطح پر یہ دیکھ سکیں کہ صارفین مشینوں کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔ اس عمل کو کمپنی کے لیے “آنکھیں کھول دینے والا تجربہ” قرار دیا گیا ہے، جس سے نئی مصنوعات کی بہتری میں مدد مل رہی ہے۔ نومورا نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں چھوٹے فوٹو کاپی مراکز مخصوص موٹے کاغذ کا استعمال کرتے تھے، جس کی سپورٹ ابتدائی طور پر کمپنی کی مشینوں میں موجود نہیں تھی۔ بعد میں اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعات میں تبدیلی کی گئی، جس کے بعد فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق بھارت اب صرف ایک بڑی صارف منڈی نہیں رہا بلکہ عالمی کمپنیوں کے لیے جدت اور تحقیق کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں مقامی سطح کے حل عالمی مصنوعات کی تشکیل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔کینن کی مثال اس وسیع رجحان کو ظاہر کرتی ہے جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھارت کو نہ صرف مارکیٹ بلکہ ایک “ریورس انوویشن” لیب کے طور پر بھی دیکھ رہی ہیں، جہاں سے حاصل ہونے والے تجربات کو عالمی سطح پر استعمال کیا جا رہا ہے۔












