شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی : 25اکتوبر /سماج نیوز سروس ۔ہندوستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے اور امکان ہے کہ 2030 تک 7300 بلین امریکی ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کا امکان ہے ۔ وہیںیہ ایشیا کی دوسری بڑی معیشت بن جائے گا ۔ ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس نے اپنے نئے پرچیزنگ مینیجر انڈیکس (PMI) میں یہ بات کہی۔ 2021 اور 2022 میں دو سال کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کے بعد، ہندوستانی معیشت نے 2023 کے مالی سال میں مضبوط ترقی کا مظاہرہ کرنا جاری رکھا۔ مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)میں 6.2-6.3 فیصد بڑھنے کی امید ہے ۔ اس کے ساتھ، ہندوستانی معیشت اس مالی سال میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہوگی۔ اپریل -جون سہ ماہی میں ایشیا کی تیسری بلند ترین اقتصادی شرح نمو 7.8 فیصد رہی۔ 2030 تک جاپان سے آگے نکل جائے گا ہندوستان ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا کہ قریبی مدت کے اقتصادی آؤٹ لُک میں2023 کے بقیہ وقت اور 2024 میں تیزی سے توسیع کا امکان ہے ، جس کی بنیاد گھریلو طلب میں مضبوط اضافہ پر ہے۔ امریکی ڈالر کے لحاظ سے ماپی گئی ہندوستان کی جی ڈی پی موجودہ قیمتوں کی GDP 2022 میں 3500 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2030 تک 7300 بلین امریکی ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ اقتصادی توسیع کی اس تیز رفتاری کے نتیجے میں، ہندوستانی جی ڈی پی کا حجم 2030 تک جاپانی جی ڈی پی سے زیادہ ہوجائے گا، جس سے ہندوستان ایشیا پیسفک خطے میں دوسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ امریکہ اس وقت 255 بلین امریکی ڈالر کے جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس کے بعد چین 18000 بلین امریکی ڈالر کے ساتھ دوسری اور جاپان 4200 بلین ڈالر کے ساتھ تیسری بڑی معیشت ہے۔ ساتھ ہی، 2022 تک، ہندوستانی جی ڈی پی کا حجم برطانیہ اور فرانس کے جی ڈی پی سے بڑا ہو جائے گا۔ توقع ہے کہ ہندوستان کی جی ڈی پی 2030 تک جرمنی سے آگے نکل جائے گی۔












