نئی دہلی، : صدر دروپدی مرمو نے ہندوستان میں مراعات یافتہ طبقے کے لوگوں اور نوجوانوں میں انتخابات کے تئیں بے حسی کو اجاگر کرتے ہوئے بدھ کے روز شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس لاتعلقی کو چھوڑ کر ووٹنگ کو قوم کی تعمیر کا کام سمجھیں اور اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی اپیل کی۔محترمہ مرمو نے آج انتخابی عمل میں ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے میں الیکشن کمیشن کی کوششوں کی ستائش کی اور آنے والے سالوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ کو 75فیصد تک بڑھانے کے اس کے ہدف کیلئے کمیشن کو نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج 13ویں قومی یومِ رائے دہندگان کی تقریبات سے خطاب کے دوران انتخابات کے انعقادمیں شاندارکارکردگی کامظاہرہ کرنے والے ریاستی اورضلعی سطح کے افسران کو سال 2022 کیلئے قومی ایوارڈ سے نوازا۔ اس موقع پر اہم اسٹیک ہولڈروں جیسے سرکاری میڈیا اور مواصلاتی اداروں اور دیگر محکموں کو ووٹروں کی آگاہی کے لیے ان کے قابل قدر کردار پر قومی ایوارڈ بھی پیش کیے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے شہریوں کی دانشمندی پر بے پناہ اعتماد کا اظہار کیا اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کا انعقاد کیا۔ ہندوستان کے لوگوں نے اپنے عقیدے کو سچ ثابت کیا ہے ۔ ہندوستان کی جمہوریت کو دنیا کی سب سے بڑی، متحرک اور مستحکم جمہوریت کے طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ گذشتہ سات دہائیوں کے دوران انتخابی عمل کے ذریعے ہمارے ملک میں سماجی انقلاب ممکن ہوا ہے ۔ یہ ہماری جمہوریت کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والا عام ووٹر یہ محسوس کرتا ہے کہ کون ملک یا ریاست پر حکمرانی کرے گا اور وہ کس طرح حکومت کرے گا اس کا فیصلہ کرنے میں اس کا اہم کردار ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت آئین میں درج سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کے مقاصد کے حصول کی جانب مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔ انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن اور دیگر تمام شرکاکی مشترکہ کوششوں سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ ووٹروں کی حوصلہ افزائی کے لیے الیکشن کمیشن کا نصب العین ‘کوئی بھی ووٹر پیچھے نہ رہ جائے ’ قابل ستائش ہے ۔ یہ جملہ تمام ووٹروں کے لیے ووٹنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کے مقصد کی وضاحت کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس سال کے قومی یومِ رائے دہندگان کا موضوع ‘ووٹنگ جیسا کچھ نہیں، میں یقینی طور پر ووٹ دیتا ہوں’ ووٹروں کی عہد بستگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ الیکشن کمیشن اور ووٹروں کا مشترکہ تعاون ہمارے ملک کے انتخابی عمل کو مضبوط بناتا ہے ۔ انھوں نے تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ ووٹنگ کو قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ سمجھیں اور ‘قوم کی بالادستی’کے جذبے کے ساتھ ووٹ دیں۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ ہمارے انتخابی عمل اور ہماری جمہوریت کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ جمہوری عمل میں خواتین کی فعال شرکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ 2019 کے عام انتخابات میں خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ تھی۔ یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار دونوں ایوانوں نے مل کر خواتین ارکان پارلیمنٹ کی تعداد سو سے تجاوز کی ہے ۔ گرام پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک، خواتین اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی شرکت اور تعداد میں مزید اضافہ ہونا چاہیے ۔
صدر جمہوریہ کو اعلیٰ انتخابی کمشنر جناب راجیو کمار کی جانب سے ‘پہلے شہری کا انتخاب – بھارت کے صدارتی انتخابات کی ایک تصویری کرونیکل’کے عنوان سے کتاب کی پہلی نقل موصول ہوئی۔ یہ کتاب ملک میں صدارتی انتخابات کے تاریخی سفر کی جھلک پیش کرتی ہے۔سال 2011سے ہر سال 25جنوری کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے یوم تاسیس یعنی 25جنوری 1950کو ملک بھر میں قومی یومِ رائے دہندگان منایا جاتا ہے۔ اس جشن کا بنیادی مقصد شہریوں میں انتخابی بیداری پیدا کرنا اور انہیں انتخابی عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دینا ہے ۔ قومی یومِ رائے دہندگان، ووٹروں کے اندراج کو آسان بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ، خاص طور پر نئے اہل نوجوان ووٹروں کے اندراج کی۔












