شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی، کانگریسی قد آور لیڈروں کا’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ قافلہ کشمیر پہنچنے والا ہے اس کے پہلے 10جنوری کو راہل گاندھی نے پنجاب کے معروف قصبہ سرہند شریف میں شیخ احمد فاروقی سرہندی کے مزار پر چادر پوشی کی۔ یہ وہی شیخ احمد فاروقی ہیں جنہوں نے اکبر کے غرور کی مٹی پلید کی تھی اور اکبر ان کا بال بی بیکا نہ کرسکا تھا۔ کنیا کماری سے کشمیر تک اس یاترا کو ملک اور بیرون ملک میں جو مقبولیت مل رہی ہے وہ اپنی جگہ لیکن یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس تاریخی یاترا سے کانگریس کی گرتی ساکھ کو بھی کوئی فائدہ ہوگا ۔دیکھا یہ بھی جا رہا ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ کانگریس کی سمت بڑھ بھی چکا ہے اور اس کا ثبوت ابھی حال ہی میں ہوئے دہلی کارپوریشن انتخابی نتائج میں صاف صاف نظر بھی آیا ۔راہل گاندھی کا جو قافلہ ابھی دہلی کے سیلم پور اور جعفر آباد ہوتے ہویے اتر پردیش کے مسلم اقلیتی حلقہ سے گذرا اس کی رپورٹ سے صاف صاف نظر آرہا تھا کہ مسلمان راہل گاندھی کے ساتھ آنے کو بیتاب ہیں۔
لیکن پتہ نہیں کیوں کانگریس کے نئے صدر اس بات کو محسوس نہیں کر پارہے ہیں کہ کانگریس کا اقلیتی شعبہ محض شاعری کے بھروسے مضبوط نہیں ہو سکتا ۔اس شعبے کی ذمہ داری کسی ایسے شخص کو دینے کی اشد ضرورت ہے جو تجربہ کار بھی ہو اور عام مسلمانوں کا نمائندہ بھی اور وہ مسلمانوں کے بنیادی مسائل اور ان کے مذہبی تشخص کو ملک کے شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک جانتا بھی ہو۔ کانگریس کا یہ سمجھنا بڑی غلطی ہے کہ پورے ملک کے مسلمان صرف شعر پسند ہیں اور شعرا کی قدر کرتے ہیں لہٰذا وہ کسی شاعر کو اپنا قائد بھی تسلیم کرلیں گے اور اس کے کہنے پر اپنا ووٹ بھی کانگریس کو دے دیں گے۔ وہ بھی کسی ایسے شاعر کے کہنے پر جو ملک میں مقبول ہی اس وقت ہوا جب اس نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی مسلم دشمنی کو موضوع بنا کر شعر کہنا شروع کیا اور ہزاروں کے مجمع میں لاکھوں روپئے لے کر خود کو سب سے کثیر معاوضہ والے شاعر کی حیثیت سے پیش کیا۔
قارئین جانتے ہیں کہ ایک طویل عرصہ سے کانگریس پر مسلمانوں کی منہ بھرائی اور ہندو دشمنی کا بے بنیاد الزام بی جے پی لگاتی رہی ہے۔ کانگریس کے سینئر مسلم لیڈر یہ شکایت بھی کرتے رہے ہیں کہ اسمبلی کا انتخاب ہو یا عام انتخاب،انتخابی مہم میں مسلم لیڈر کا اسٹیج پر ہونا بھی نقصان کا باعث ہوتا ہے اور لوکل کانگریسی لیڈر شپ انتخابی مہم میں مسلم لیڈر کی شمولیت کو اپنے حق میں نقصان دہ سمجھتی ہے کیونکہ اس سے ہندو ووٹ پولرائز ہو جاتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی کانگریس کی انتخابی حکمت عملی بنانے والے اس بات کا خیال بھی رکھتے رہے ہیں۔ خاص طور پر گجرات جیسی حساس ریاست میں تو ہندو کانگریسی لیڈر بھی گجرات فساد کا ذکر کرنے سے اجتناب کرتے رہے ہیں۔
لیکن افسوس کہ رکن پارلیمنٹ اور کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی صاحب کو ان باریکیوں کا زرا بھی اندازہ نہیں اور ابھی حال میں ہوئے گجرات اسمبلی انتخاب کے انتخابی مہم میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ جگہ جگہ اپنے اشعار سنا کر جلے پر نمک بھی چھڑکنے کا کام کرتے رہے۔ گجرات انتخابی نتائج کے بعد ان اسمبلی حلقوں کے لوگ یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے کہ یہاں کانگریس کی شکست صرف عمران پرتاپ گڑھی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر وہ یہاں نہ آتے تو ہندو ووٹر بی جے پی کے حق میں متحد نہ ہوتے۔
شاہوں کے دور میں بھی شعراء کی بڑی قدر و منزلت ہوا کرتی تھی۔ انہیں انعام واکرام سے بھی نوازا جاتا رہا ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ عقیل و فہیم حکمرانوں نے شعرا کو کبھی بھی کوئی ایسا عہدہ نہیں دیا جو انتظامی امور سے متعلق ہو۔ ایک مثال سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد موصوف سے کولکاتہ کے کانگریسیوں نے کئی بار رابطہ کر کے کہا کہ مغربی بنگال اقلیتی شعبہ کے صدر کو جلد از جلد تبدیل کریں اور نئی کمیٹی تشکیل دیں جس میں تعلیم یافتہ تجربہ کار اور عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سے روبرو ہوتا رہا ہو۔ کیونکہ موجودہ صدر عوام میں نہایت غیر مقبول ہے اور بنگال جیسی ریاست میں جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 40فیصد ہے، کمیونسٹوں کا زور ٹوٹ چکا ہے اور ممتابنرجی اس لئے مسلمانوں کا ووٹ لے رہی ہیں کہ وہاں کانگریس نہایت کمزور کر دی گئی ہے جبکہ وہاں سیکولرسٹ دانشوروں کا ایک بڑا حلقہ ہے اور ان کی خواہش ہے کہ کانگریس کو ممتا بنرجی سے براہ راست مقابلہ کرنا چاہئے۔ لیکن اقلیتی شعبہ کے نام پر وہاں کسی قابل اور پڑھے لکھے نیز تجربہ کار سیاسی شخص کی جگہ ایک نہایت ناموزوں شخص کو چارج دے کر کانگریس یہ بھول گئی ہے کہ بنگال میں کبھی اس نے شاندار حکومت بھی چلائی ہے۔
اب 2024 کا عام انتخاب سامنے ہے اور اس سے قبل 9 ریاستوں میں اسمبلی انتخاب ہے۔ کیا اس کے پہلے کانگریس سنجیدگی سے ایسے نمائشی اور خود پسند لیڈر سے اپنے کو دور کرے گی؟ جس کیلئے سیاست صرف اپنی نمائش کے علاوہ اور کچھ نہیں اور جو ہمیشہ اپنے سطحی شعروں پر واہ واہ کرنے والوں کے حلقہ سے باہر نہیں نکلتا اور عام کانگریس ہمدردوں سے ملنا بھی پسند نہیں کرتا۔












