ڈھاکہ، (یو این آئی) بنگلہ دیش حکومت کے عبوری مشیر محمد یونس نے ملک کے نام اپنے الوداعی خطاب میں ہندوستان کا براہِ راست ذکر تو نہیں کیا، لیکن سات بہنوں (بنات سبعہ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش؛ نیپال، بھوٹان اور ہندوستان کے شمال مشرقی خطے کی سات ریاستوں کو معاشی خوشحالی کے لیے وسیع مواقع فراہم کر سکتا ہے۔مسٹر یونس نے پیر کی رات اپنے خطاب میں کہا، "کھلا سمندر صرف (بنگلہ دیش کی) جغرافیائی حد نہیں ہے۔ یہ بنگلہ دیش کے لیے عالمی معیشت کے ساتھ کام کرنے کا ایک موقع ہے۔ بنگلہ دیش سات بہنوں، نیپال اور بھوٹان کے لیے معاشی خوشحالی کی بہت بڑی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے۔” سات بہن ریاستوں سے مراد ہندوستان کے شمال مشرق میں واقع سات ریاستیں ہیں، جن میں اروناچل پردیش، میزورم، میگھالیہ، آسام، تریپورہ، ناگالینڈ اور منی پور شامل ہیں۔ مسٹر یونس نے اپنے بیان میں نیپال اور بھوٹان کا تو تذکرہ کیا، لیکن ان کے الفاظ میں پڑوسی ملک ہندوستان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔قابلِ ذکر ہے کہ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش میں شمال مشرقی ہندوستان تنازع کا موضوع رہا ہے اور کئی معروف شخصیات ہندوستان کے اس اٹوٹ حصے کے بارے میں متنازع تبصرے کر چکی ہیں۔ مسٹر یونس خود اس سے قبل پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو ایک ایسی کتاب تحفے میں دے چکے ہیں جس میں ہندوستان کی ان سات ریاستوں کو گریٹر بنگلہ دیش کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزنز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ حسنت عبداللہ ایک تقریر میں ان ریاستوں کو ہندوستان سے الگ کرنے کی بات کر چکے ہیں۔بنگلہ دیش کے ریٹائرڈ کرنل عبدالحق نے دسمبر 2025 میں کہا تھا کہ جب تک ان ریاستوں کو ہندوستان سے علیحدہ نہیں کر دیا جاتا، تب تک بنگلہ دیش محفوظ نہیں ہے۔ آنجہانی طلبہ رہنما عثمان ہادی نے اپنی موت سے قبل سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر شیئر کی تھی جس میں ان ریاستوں کو ہندوستان سے الگ دکھایا گیا تھا۔ مسٹر یونس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقتصادی زونز، تجارتی معاہدے اور ڈیوٹی فری مارکیٹ رسائی اس علاقے کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ابھرنے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پورٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں سے کارکردگی عالمی سطح تک بڑھ جائے گی۔












