نئی دہلی: وزیراعظم نریندرمودی نے سال 2023-24کے بجٹ میں سبزنمو کیلئے کیے گئے التزامات کو ملک کی نئی نسل کے تابناک مستقبل کا سنگ بنیاد بتاتے ہوئے ملک اور دنیا کے سرمایہ کاروں سے ہندوستان کے سبز توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ مسٹر مودی نے جمعرات کو بجٹ کے بعد کے ویبینار کی اس سال کی سیریز کے پہلے ایپی سوڈ میں گرین گروتھ کے موضوع پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا’ہندوستان جتنا کمانڈنگ پوزیشن میں ہوگا، ملک اتنی ہی بڑی تبدیلی دنیا میں لا سکے گا‘۔ انہوں نے ہندوستان کے سامنے عالمی سبز توانائی کی ایک بڑی اہم طاقت بننے کا ہدف رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا سبز توانائی کے شعبے میں سپلائی چین کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہے ، ایسے میں ہر سرمایہ کار کیلئے ہندوستان میں بڑا موقع ہے ۔وزیر اعظم نے کہا’ 2014کے بعد سے ہندوستان کے ہر بجٹ میں ایک پیٹرن رہاہے ، ہر بجٹ میں موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ نئے دور کی اصلاحات کو آگے بڑھایا گیاہے ۔ قابل تجدید توانائی کا فروغ، فوسل فیول کے استعمال کو کم کرنا اور سبز نمو نیز گرین انرجی کی طرف بڑھنا اور گیس پر مبنی معیشت کو فروغ دینا اس کے بنیادی ستون ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بار کے بجٹ میں جہاں ایک طرف پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کیلئے ترغیب دی گئی ہے وہیں ’پی ایم کسم یوجنا‘کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔ صنعت کیلئے سولر مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ اس میں روف ٹاپ سولر اسکیم بھی ہے ۔ ہم کول گیسیفیکیشن اور بیٹری اسٹوریج کو فروغ دے رہے ہیں۔
پھر بائیو فیول کو فروغ دینے کیلئے گووردھن اور گرین جیسی اسکیمیں ہیں۔ بجٹ میں گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے 19ہزار کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے اور ایتھنال کی آمیزش کے ہدف کو قبل ازوقت حاصل کرنے کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ’ہندوستان 2014 کے بعد سے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا بڑا ملک ہے‘۔ہندوستان جو ہدف مقرر کرتا ہے ، وہ وقت سے پہلے مکمل کرلیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 20فیصد ایتھنال کی آمیزش پٹرول کا استعمال شروع کرنے کا ہدف 2030سے کم کرکے 2025-26کر دیا گیا ہے ۔مسٹرمودی نے کہا کہ ہندوستان جس طرح سے بائیو فیول پر زور دے رہا ہے ، وہ سرمایہ کاروں کیلئے ایک بڑا موقع ہے ۔ انہوں نے کہا گوبر اور زرعی فضلہ سے بائیو فیول کی پیداوار کو فروغ دینے کی اسکیموں میں سرمایہ کاری کے مواقع ضائع ہونے کے لائق نہیں ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان میں ہوا اور شمسی توانائی کا شعبہ پٹرولیم کی طرح ہی سونے کی کان ہے ۔ مسٹر مودی نے سبز توانائی اورسبز نموکیلئے اس بار کے بجٹ میں کئے گئے التزمات کو نافذ کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈروں کومل کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحث اس لئے نہیں ہے کہ بجٹ میں کیاہوا، کیا نہیں ہوا۔ بجٹ آچکا ہے ، ہم اس کی ایک ایک چیز کو کیسے نافذ کرسکتے ہیں، اس پر بحث ہونی چاہیے ۔پوسٹ بجٹ ویبینار سیریزکا آغاز 2021میں ہواتھا، اس بار 12ویبینار منعقد کیے جائیں گے ، جس میں مرکز اور ریاستوں کے متعلقہ محکموں کے وزیر افسران اور صنعت و دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندے بجٹ کے التزامات کے نفاذ پر تبادلہ خیال کریں گے ۔












