علی گڑھ،سماج نیوز سروس : مغربی بنگال کے گورنر ڈاکٹر سی وی آنندا بوس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سیاسیات کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”ڈی کالونائزنگ اے ڈسپلن: بین الاقوامی تعلقات کے لئے ہندوستان کا تہذیبی وِژن“ کے افتتاحی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے تہذیبی دانش، وِژن اور عصر حاضر کی عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں اس کی معنویت کو اجاگر کیا۔ ہندوستان کی فکری و ثقافتی میراث پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بوس نے معروف مغربی مفکرین آرنلڈ ٹوائن بی، مارک ٹوین اور البرٹ آئن اسٹائن کا حوالہ دیا اور کہا کہ دنیا نے طویل عرصے سے ہندوستانی تہذیب کی وسعت و گہرائی کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے قدیم مفکر کوٹلیا کے شد گُن اصول (خارجہ پالیسی کے چھ اصول) کا ذکر کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی تعلقات کے لیے ایک جامع اور عملی فریم ورک قرار دیا۔ مارک ٹوین کے اس مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ”ہندوستان انسانی نسل کی جائے پیدائش، انسانی زبان کا گہوارہ اور تاریخ و روایت کا سرچشمہ ہے“، گورنر موصوف نے کہا کہ یہ اعتراف خود ہندوستانیوں نے نہیں بلکہ مغربی مفکرین نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات مشرق و مغرب کے درمیان بامعنی ہم آہنگی اور مکالمے کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں متعدد عالمی کانفرنسوں میں شرکت کے باوجود موجودہ اجتماع انہیں خاص طور پر بے حد باوقار اور بامقصد محسوس ہوا، جو ہندوستانی تہذیبی نقطہ نظر سے بین الاقوامی تعلقات پر مستقبل کی عالمی گفتگو کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ مغربی بنگال کے گورنر نے اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک صدی سے زائد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون وائس چانسلر کی قیادت ادارے کے لئے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے ماہرِ تعلیم ڈی ایس کوٹھاری کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تقدیر اس کے کلاس رومز میں تشکیل پاتی ہے اور علم بالآخر قومی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ اس موقع پر گورنر دفتر کی جانب سے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کو خواتین کی اختیار دہی اور تعلیمی قیادت میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں گورنر کا وندے ماترم ایوارڈ آف ایکسیلینس عطا کیا گیا۔ اس ایوارڈ کے تحت گورنر موصوف نے انھیں ایک لاکھ روپے نقد، یادگاری نشان اور شیلڈ پیش کی۔ تقریب کے دوران وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جسے شعبہ سیاسیات کے چیئرپرسن پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری نے پیش کیا۔ اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ صدیوں تک نوآبادیاتی اثرات نے ہندوستان کے تعلیمی نظام اور اجتماعی ذہنیت کو متاثر کیا، تاہم گزشتہ گیارہ برسوں میں نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے اور ہندوستانی اقدار کے احیاء کی سمت میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ”وکاس“ اور ”وراثت“ کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ گیارہ برسوں سے نوآبادیاتی علامتوں کو ہٹاکر ہندوستان کی روایتی اقدار کے تئیں احساس تفاخر کو بحال کیا جارہا ہے۔ سیوا تیرتھ کو نیا پی ایم اوبنایا گیا ہے اور پارلیمنٹ کی نئی عمارت اور نیشنل وار میموریل کی تعمیر کی گئی ہے۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ یہ کانفرنس اس بنیادی سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ دنیا کے بارے میں علم کون اور کس زاویہ نظر سے پیدا کرتا ہے۔












