تل ابیب (ہ س)۔بین الاقوامی فوجداری عدالت کے موجودہ اور سابق عہدے داروں نے بتایا ہے کہ عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان، اپنی رخصت پر جانے سے پہلے اسرائیل کی دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت کے دو وزراء کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اگرچہ اقوام متحدہ خود اکریم خان کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔عہدے داروں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیتسلئیل سموٹرچ اور وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گوئر کے خلاف جو مقدمات دائر کیے گئے ہیں، وہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع میں ان کے کردار سے متعلق ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا سموٹرچ اور بن گوئر نے مغربی کنارے میں یہودی بستیاں تعمیر کر کے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لیے کہ جنیوا کنونشنوں کے مطابق کوئی بھی ملک اپنی شہری آبادی کو ان علاقوں میں منتقل نہیں کر سکتا جن پر اس نے قبضہ کیا ہو۔مزید یہ کہ پراسیکیوٹر دیگر اسرائیلی حکام کے کردار کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں، جو انہی بستیوں کی توسیع میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کیسوں پر کارروائی کا فیصلہ کریم خان کے دونوں نائبین کریں گے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ اس سلسلے میں کیا طریقہ اختیار کریں گے۔یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کچھ حکام اور قانونی ماہرین اس بات پر شک ظاہر کر رہے ہیں کہ عدالت اپنے اہم ترین پراسیکیوٹر کی غیر موجودگی میں سیاسی طور پر حساس ایسے معاملات کو آگے بڑھا پائے گی۔اگر ان مقدمات کو آگے بڑھایا گیا تو اس سے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا، اور اس کا دائرہ کار صرف غزہ کی جنگ تک محدود نہ رہے گا۔ یہ وہی جنگ ہے جس کی بنیاد پر عدالت نے گزشتہ برس اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان نئے گرفتاری وارنٹس کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں، جس سے واشنگٹن کی طرف سے نئی پابندیاں بھی متوقع ہیں۔عدالت کا کہنا ہے کہ اسے فلسطینی علاقوں میں 2014ء سے ہونے والے جرائم کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہے، کیوں کہ اسی سال فلسطینی اتھارٹی نے اس دائرہ اختیار کو تسلیم کر لیا تھا۔سموٹرچ اور بن گوئر کے ترجمانوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ادھر اسرائیل کا موقف ہے کہ مغربی کنارہ بین الاقوامی قانون کے تحت’مقبوضہ علاقہ‘ نہیں ہے، کیوں کہ 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران جب اسرائیلی فوج نے اس پر قبضہ کیا تھا، اس وقت یہ علاقہ کسی خود مختار ریاست کا حصہ نہیں تھا، اس لیے جنیوا کنونشن کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس” (آئی سی جے) مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔سموٹرچ اور بن گوئر نے نہ صرف مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کے پھیلاؤ کی حمایت کی ہے بلکہ دونوں خود بھی مغربی کنارے کی بستیوں میں رہتے ہیں، اور اسرائیل سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ پورا مغربی کنارہ اپنے قبضے میں لے لے۔عدالت ان دونوں وزیروں کے خلاف مقدمات کا جائزہ ایسے وقت میں لے رہی ہے جب خود ادارے کو داخلی طور پر سیاسی دباؤ اور بیرونی تنقید کا سامنا ہے۔یاد رہے کہ عدالت نے گزشتہ سال اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی کارروائیوں پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اس پر امریکہ نے شدید ردِ عمل دیا تھا، اور ٹرمپ انتظامیہ نے کریم خان پر پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔












