جہنم واقعتاً ایک دل دہلا دینے والا مقام ہے، لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ کی اکثریت جہنم کی اندھیر نگریوں اور ان عذابات سے واقفیت کے باوجود اس سے بچاؤ میں تساہل کا شکار نظر آتی ہے۔کل ہمارے گھروں میں تلاوتِ قرآن کی آوازیں گونجتی تھیں‘ آج فلمی نغمے گونجتے ہیں۔کل ہمارے گھروں میں اللہ ‘ رسولﷺ اور اسلافِ اُمت کی باتیں ہوا کرتی تھیں‘آج ٹی وی کے ڈراموں ‘ فلموں اور کرکٹ و دیگر کھیلوں پر تبصرے ہوا کرتے ہیں۔کل جن گھروں میں کسی اجنبی عورت کی تصویر کا داخلہ تک محال تھا‘ آج وہاں باپ بیٹی‘ بھائی بہن ایک ساتھ بیٹھ کر نیم برہنہ بے حیاء عورتوں کے رقص لطف اندوز ہوتے ہیں۔کل جو خواتین برقع پہن کر باہر نکلنے سے ہچکچاتی تھیں‘ آج وہ دوپٹے تک کی قید سے آزاد بازاروں میں مٹرگشت کرتی پھرتی ہیں۔کل جہاں حرام کمائی سے بچنے کا درس دیا جاتا تھا ‘ آج وہاں ’ حرام کے بغیر گزارا ممکن نہیں‘ سمجھایاجاتا ہے۔کل آخرت کی کامیابی کی باتیں کی جاتی تھیں‘ آج صرف دنیا میں کامیاب ہونے کو کہا جاتا ہے۔آج مسلمانوں کی اکثریت نے دنیا کی لذت و کامیابی حاصل کرنے کیلئے اپنے گھروں میں جن گناہوں کو دعوت دے رکھا ہے ‘ موت کے ساتھ ہی یا اس سے پہلے ہی یہ ساری لذتیں و کامیابیاں ختم ہو جائیں گی اور اُن گناہوں کی پاداش میں موت کے بعد بڑی لمبی ناکامی شروع ہو گی اور اگر ان گناہوں میں کفر و شرک کی آمیزش بھی ہو اور پھر اسی حالت میں موت آجائے تو ایسی ناکامی ہوگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ہمارے رب نے اس ہمیشہ کی ناکامی کو’ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ‘سے تعبیر کیا ہے:سو تم اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو کہہ دیجئے کہ حقیقی خسارہ والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے نفس اور اپنے اہل کو قیامت کے دن گھاٹے میں رکھا – آگاہ ہوجاؤ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔” سورۃ الزمر میرے پیارے بھائیو! ہمیں تو حکم دیا گیا ہے سور التحريم ” اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ آگ سے بچاؤ۔”ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنے ہی نفس کو اللہ کے عذاب سے بچانا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اہل وعیال کو بھی جہنم سے بچنے کی ترغیب دلانا ضروری ہےرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک حاکم (راعی،نگہبان) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا،امیر حاکم ہے اور آدمی اپنے گھروالوں کا حاکم ہے،عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں پر حاکم ہے، پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا.اس مضمون کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو جہنم کے بارے میں آگاہ کیا جائے تاکہ لوگ اس خود بھی بچیں اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں ۔کیونکہ جہنم بہت ہی بری قیام گاہ ہے، بہت ہی برا مسکن اور بہت ہی برا ٹھکانا ہے جسے اللہ تعالی نے کافروں، مشرکوں، فاسقوں، فاجروں اور منافقوں کے لیے تیار کر رکھا ہے- نار جہنم کی شدت قارئین کرام آئیے نار جہنم کی شدت کو جانتے ہیں ۔ کتاب وسنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں ’’آگ ان کے چہروں کو چاٹ جائے گی اور ان کے جبڑے باہر نکل آئیں گے۔سورہ مومنوندوسری جگہ اللہ تعالٰی جہنم کے آگ کی شدت کو بیان کرتے فرماتے ہیں ’’ہر گز نہیں وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی۔سورہ معارج نار جہنم کے شعلے کی ایک معمولی چنگاری بہت بڑے قلعہ کے برابر ہوگی’’چلو (اس دھویں کے)سائے کی طرف جو قلعہ جیسی بڑی بڑی آگ کی چنگاریاں پھینکے گی (ان چنگاریوں کے ٹکڑے ایسے ہوں گے)جیسے زرد رنگ کے اونٹ۔‘‘ سورہ مرسلات ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تمہاری یہ (دنیا کی)آگ جسے ابن آدم جلاتا ہے جہنم کی آگ کی گرمی کا سترہواں حصہ ہے۔‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’واللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !)انسانوں کو جلانے کے لیے تو یہی دنیا کی)آگ کافی تھی؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’لیکن وہ تو دنیا کی آگ سے انہتر (69)درجہ زیادہ گرم ہے اور اس کا ہر حصہ اس دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہےجہنم کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ گرم ہے اور اس کے ہر حصہ میں گرمی کی اتنی ہی شدت ہے جتنی دنیا کی آگ میں ہے۔حضر،ت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں وہ چیزیں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے بے شک آسمان چر چرا رہا ہے اور اسے چرچرانا ہی چاہئے کیونکہ اس میں کہیں بھی ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی فرشتے کا سر سجدہ میں نہ ہو۔واللہ! اگر تم وہ باتیں جان لو جو میں جانتا ہوں تو کم ہنسو اور زیادہ رؤو،بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دو اور اللہ کی پناہ طلب کرنے جنگلوں اور صحراؤں کی طرف نکل جاؤ۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہےاگر لوگ جہنم کی آگ دیکھ لیں تو ہنسنا چھوڑ دیں،بیویوں سے ملنے کی خواہش ترک کردیں،شہر کی آرام دہ زندگی چھوڑ کر جنگلوں میں جا بسیں اور ہر وقت آگ سے اللہ کی پناہ طلب کرتے رہیں۔ میرے اسلامی بھائیوں تصور کرو جہنم کی آگ کیسی ہوگی جہنم کی وسعت اب آئیے دیکھتے ہیں جہنم کتنی بڑی اور کتنی گہری ہے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا ہے’ ’بندہ کوئی ایسی بات زبان سے کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنم میں زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ایک دوسری روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دفعہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک دھماکے کی آوز سنی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ’’جانتے ہویہ آواز کیسی ہے؟‘‘راوی کہتے ہیں،ہم نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’یہ ایک پتھر تھا جو آج سے ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا اور وہ آگ میں گرتا چلا جا رہا تھاحتٰی کہ اب جہنم کی تہ تک پہنچا ہے۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔میرے بھائیو! سوچو جہنم کی گہرائی اور وسعت کا کیا عالم ہے کہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ سے بھی زیادہ ہے آج کے اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکتا ہے کہ آسمان و زمین کا درمیانی فاصلہ کتنا ہے جہنم میں گرنے والا پتھر ستر سال کے بعد جہنم کی تہ تک پہنچتا ہے۔میرے بھائیو تصور کرو جہنم کتنی گہری ہےاللہ تعالٰی ہم سب کو جنہم کہ آگ سے محفوظ فرمائے۔آمینجہنم کے دروازے جہنم کے سات دروازے ہیں۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں ’’شیطان کی پیروی کرنے والے تمام انسانوں کے لئے جہنم کی وعید ہے جس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے جہنمیوں میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے۔سورہ حجر تمام جہنمی اپنے اپنے گناہوں کے مطابق مخصوص دروازوں سے داخل ہوں گے۔جہنم کے مختلف طبقات جہنم کے مختلف طبقات ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ابو طالب آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لئے (دوسرے لوگوں سے)ناراض ہوتے تھے کیا یہ چیز ان کے کسی کام آئے گی ؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ہاں!اب وہ جہنم کے اوپر کے طبقے میں ہیں اگر میں ان کے لئے سفارش نہ کرتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔ایک جگہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں ’’یقینا منافق جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے اور تم کسی کو ان کا مدد گار نہ پاؤ گے۔‘‘سورہ نساءمعلوم یہ ہوا ہر جہنمی اپنے گناہوں کے مطابق مخصوص طبقے میں داخل کیا جائے گا واللہ اعلم جہنم کا ایک طبقہ ’’الجحیم‘‘بھڑکتی ہوئی آگ کا گڑھے)ہے۔جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانابھڑکتی ہوئی آگ کا گڑھا ہوگا۔‘‘(سورہ نازعات )جہنم کا دوسرا طبقہ ’’اَلْحُطَمَۃُ‘‘ (چکنا چورکردینے والی )ہے’’ہرگز نہیں وہ شخص چکنا چور کر دینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا اور تم کیا جانو وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ کیسی ہے۔ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکتی ہوئی۔‘‘(سورہ ہمزہ) جہنم کا تیسرا طبقہ ’’ھَاوِیَۃٌ ‘‘گہری کھائی ہے۔اور جن کے پلڑے (میزان)ہلکے ہوں گے ان کی جگہ گہری کھائی ہو گی اورتمہیں کیا معلوم وہ گہری کھائی کیا ہے۔ بھڑکتی ہوئی آگ ہے ۔‘‘(سورہ قارعہ) جہنم کا چوتھا طبقہ ’’سَقَرَ‘‘ ( سخت جھلسا دینے والی) ہے ’’عنقریب میں اسے سخت جھلسا دینے والی جگہ میں جھونک دوں گا تم کیا جانو وہ سخت جھلسا دینے والی جگہ کیا ہے۔ نہ باقی رکھے نہ چھوڑے کھال کو جلا کرکالا کردینے والی ۔‘‘(سورہ مدثر) جہنم کا پانچواں طبقہ ’’لظٰی‘‘( بھڑکتی ہوئی آگ کی لپیٹ ہے ہر گز نہیں،وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپیٹ ہے جو سر اور منہ کی کھال ادھیڑ دے گی پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا،پیٹھ پھیری مال جمع کیا اور خرچ نہ کیا۔‘‘ (سورہ معارج جہنم کا چھٹا طبقہ ’’سَعِیْرٌ‘‘ دہکتی ہوئی آگ ہے قیامت کے روزکافر کہیں گے کاش ہم (دنیا میں)غور سے سنتے یا سمجھتے تو آج اس دہکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں شامل نہ ہوتے اس طرح وہ اپنے قصوروں کا خود اعتراف کریں گے لعنت ہے ان جہنمیوں پر۔‘‘(سورہ ملک) جہنم کے ایک طبقہ کا نام ’’زمھریر‘‘ہے جس میں شدید سردی کا عذاب دیا جائے گا۔جہنم کا کھانا جہنمیوں کو جہنم میں درج ذیل چار قسم کے کھانے دیئے جائیں گے۔1۔زَقُّوْمِ ۔تھوہر2۔ضَرِیْعِ کانٹے دار گھاس3۔غِسْلِیْنَ ۔زخموں کے دھوون کی غلاظت4۔ذَا غُصَّۃٍ ۔حلق میں پھنس پھنس کر اترنے والا کھانا1 زقوم تھوہرجہنم میں زقوم کا درخت گناہ گاروں کا کھانا ہوگا (دیکھنے میں)تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا،پیٹ میں اس طرح جوش مارے گا جیسے گرم پانی کھولتاہے۔‘‘(سورہ دخان )بدبودار،کڑوا،کانٹے دار تھوہر جہنمیوں کا کھانا ہوگا،جو جہنم کی تہ میں اُگتا ہے اور اس کے شگوفے زہریلے سانپوں کے سر جیسے ہیں2ضريع کانٹے دار کھاس’’جہنمیوں کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پینے کے لئے دیا جائے گاکانٹے دار سوکھی گھاس کے علاوہ ان کے لئے کوئی کھانا نہ ہوگا جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘(سورہ غاشیہ)کانٹے دار گھاس اور جھاڑیاں بھی جہنمیوں کا کھانا ہوں گی جو انتہائی زہریلی اور بدبودار ہوں گی۔یہ کا کھانا جہنمیوں کی بھوک میں ذرہ برابر کمی نہیں کرے گا بلکہ ان کی تکلیف میں اضافہ کا باعث بنے گا۔3غسلین زخموں کے دھوون کی غلاظت ’آج یہاں ان (گناہگاروں)کا کوئی غم خوار ہے نہ زخموں کے دھوون کے علاوہ ان کے لئے کوئیکھانا ہے جسے(ان)گناہ گاروں کے علاوہ کوئی دوسرانہیں کھائے گا۔‘‘(سورہ حاقہ)جہنمیوں کے جسم سے بہنے والا غلیظ اور گندہ مادہ بھی جہنمیوں کو کھانے کے طور پر دیا جائے گا۔4۔ ذَا غُصَّۃٍ حلق میں پھنس پھنس کر اترنے والا کھانا ’’ہمارے پاس (جہنمیوں کے لئے)بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب ہے۔‘‘(سورہ مزمل)جہنمیوں کو ایسا زہریلا کانٹے دار اور بدبودارکھانا دیا جائے گا جو ان کے حلق سے پھنس پھنس کر نیچے اترے گا۔جہنم کا پانی جہنمیوں کو پینے کے لئے پانچ قسم کے مشروبات دیئے جائیں گے۔1۔مَآئٌ حَمِیْم کھولتاہواپانی2۔مَآئٌ صَدِیْدٌ زخموں سے بہنے والی پیپ اور خون3۔مَآئٌ کَالْمُہْلِ تیل کی تلچھٹ جیسا کھولتا ہواپانی 4۔غَسَّاقٌ سیاہ زہریلا بدبودارمشروب5۔طِیْنَۃُ الْخَبَالَ جہنمیوں کا پسینہ1۔مَآئٌ حَمِیْمٌ کھولتا ہواپانی ’پھر اے گمراہ ہونے والو اور جھٹلانے والو!تم تھوہر کا درخت کھانے والے ہو اسی سے تم پیٹ بھرو گے اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے قیامت کے روز یہ ہوگا سامان ضیافت (جھٹلانے والوں کے لئے)‘‘(سورہ واقعہ)تھوہر کھانے کے بعد جہنمی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔2۔مَآئٌ صَدِیْدٌ زخموں سے بہنے والی پیپ اور خون (دنیا کے بعد)آخرت میں)کافر کے لئے)جہنم ہے جہاں وہ پیپ اور خون کی آمیزش والا پانی پلایا جائے گا جسے وہ زبردستی گھونٹ گھونٹ کرکے پینے کی کوشش کرے گا لیکن مشکل سے ہی گلے سے اتار سکے گا کافر کو ہر طرف سے موت آتی دکھائی دے گی لیکن مرنے نہ پائے گا اور اس کے بعد بھی سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا۔‘‘(سورہ ابراہیم) جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والا خون اور پیپ یا کھولتا ہوا آمیزہ بھی جہنمیوں کو پینے کے لئے دیا جائے گا جسے وہ زبردستی ایک ایک گھونٹ کرکے پئیں گے۔3۔مَآئٌ کَالْمُہْلِ تیل کی تلچھٹ جیسا کھولتا ہواپانی جہنمی پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے جیسا ہوگا جو چہرے کو بھون ڈالے گا بدترین پینے کی چیز اور بہت ہی بری آرام گاہ۔‘‘(سورہ کہف)4۔غَسَّاقٌ سیاہ زہریلا بدبودار مشروب’یہ تو ہے متقی لوگوں کا انجام اور سرکشوں کے لئے بہت ہی برا ٹھکاناہے یعنی جہنم،جس میں وہ جھلسائے جائیں گے بہت ہی بری قیام گاہ،یہ ہے سرکشوں کا انجام پس اب یہ لوگ مزا چکھیں بدبودار کھولتے ہوئے پانی کا اور بدبودار شدید سیاہ زہریلے پانی کا اور اسی شکل کے بعض دوسرے مشروبات کا۔‘‘ (سورہ ص)غساق انتہائی سیاہ رنگ کا زہریلا گندہمادہ بھی جہنمیوں کو پینے کے لئے دیاجائے گا۔5۔طِیْنَۃُ الْخَبَالِ جہنمیوں کا پسینہ حضرت جابررضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اللہ تعالیٰ نے عہد کیا ہے کہ جو نشہ آور مشروب پئے گا اسے (جہنم میں)طینۃالخبال پلائے گا۔‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !طینۃالخبال کیاہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جہنمیوں کا پسینہ۔‘‘جہنم کا لباسجہنمیوں کو آگ کا لباس پہنایاجائے گا۔یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا ہے ان میں سے جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جس سے ان کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیں گے۔‘‘(سورہ حج)بعض مجرموں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر تارکول کا لباس پہنایاجائے ’اس روز تم مجرموں کو دیکھو گے ان کے ہاتھ اور پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے۔‘‘ (سورہ ابراہیم) بعض مجرموں کو گندھک کا پائجامہ اور کھجلی کا کرتہ پہنایا جائے گا۔حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ میری امت میں زمانہ جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے فاپنے حسب پر فخر کرنا ق دوسروں کے حسب پر طعنہ زنی کرنا كتاروں سے بارش طلب کرنااور(مرنے والوں پر)بین کرنا‘‘،نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بین کرنے والی عورت اگرمرنے سے قبل توبہ نہیں کرے گی تو اسے قیامت کے روز کھڑا کر کے گندھک کا پائجامہ اور کھجلی (خارش)کا کرتا پہنایا جائے گا۔‘‘جہنمیوں کے بستر جہنمیوں کو آگ کے بستر مہیا کئے جائیں گے۔’کافروں کے لئے جہنم(کی آگ)کا بچھونا ہو گا اور جہنم(کی آگ)کا ہی اوڑھنا ہو گا یہ ہے وہ بدلہ جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔‘‘(سورہ اعراف) جہنمیوں کے’’قالین‘‘اور’’غالیچے‘‘بھی آگ کے ہوں گے۔ ان پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے پس اے میرے بندو!میرے غضب سے بچو۔‘‘(سورہ زمر، جہنمیوں کا اوڑھنا بچھونا آگ ہی آگ ہوگی۔اس روز(جہنم کے)عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی اور ارشاد ہو گا اب مزا چکھو ان اعمال کا جو تم کرتے تھے۔‘‘(سورہ عنکبوت)جہنم میں سانپ اور بچھو ہیں جہنم کے سانپ اونٹ کے برابر ہوں گے جن کے ایک مرتبہ ڈسنے کا اثر چالیس برس تک باقی رہے گا۔ جہنم کے بچھو خچروں کے برابر ہوں گے جن کے ایک مرتبہ ڈسنے کا اثر چالیس سال تک باقی رہے گا۔حضرت عبداللہ بن حارث بن جز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جہنم میں بختی اونٹ (اونٹوں کی ایک قسم)کے برابر سانپ ہوں گے ان میں سے ایک سانپ کے کاٹنے سے جہنمی چالیس سال تک زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا۔جہنم میں بچھو خچروں کے برابر ہوں گے ان میں سے ایک بچھو کے کاٹنے سے چالیس سال تک جہنمی زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا۔‘‘اسے احمدنے روایت کیا ہے۔جہنم میں انتہائی زہریلے گنجے سانپ ہوں گے جو زکاۃادا نہ کرنے والوں کے گلے میں طوق بنا کر ڈالے جائیں گےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا،اور اس نے اس سے زکاۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل بن کر ،جس کی آنکھوں پر دو نقطے (داغ) ہوں گے ،اس کے گلے کا طوق ہو جائے گا۔پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا’’میں تیرا مال ہوں،میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال دیا ہے اور وہ بخیلی کرتے ہیں تو اپنے لیے یہ بخل بہتر نہ سمجھیں بلکہ ان کے حق میں برا ہے عنقریب قیامت کے دن یہ بخیلی ان کے گلے کا طوق ہونے والی ہے جہنم کے مختلف عذابوں کا تذکرہ جہنم میں مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے اللہ تعالٰی فراتے ہیں’کافروں کے لیےجہنم میں لوہے کے گرز اور ہتھوڑے ہوں گے جب کبھی گھبرا کر جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو پھر اسی میں واپس دھکیل دیئے جائیں گے)اور انہیں کہا جائےگا)اب جلنے کی سزا کا مزہ چکھو۔‘‘(سورہ حج،وہ لوہے کے گُرز اس قدر بھاری ہوں گے کہ روئے زمین کے سارے انسان اور جن مل کر بھی ایک گُرز نہیں اٹھا سکتے۔عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّ رضی اللّٰہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اگر جہنم میں کافروں کو مارنے والا لوہے کا ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے اور سارے انسان اور جن اکٹھے ہو جائیں تب بھی اسے زمین سے نہیں اٹھا سکتے۔‘‘اسے ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے۔جسموں کوبڑاکرنے کا عذاب جہنم میں کافر کا ایک دانت اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا۔جہنم میں کافر کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’کافر کا دانت یا اس کی کچلی)جہنم میں) اُحد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے آگ کے پہاڑ پرچڑھنے کا عذاب جہنم میں کافروں کو آگ کے پہاڑ پر چڑھنے کا عذاب دیا جائے گا ’’میں اسے عنقریب ایک مشکل چڑھائی چڑھاؤں گا۔‘‘(سورہ مدثر،’’صعود‘‘جہنم میں ایک پہاڑ کانام ہے جس پر کافر ستر سال کی مدت میں چڑھے گا پھر اس سے نیچے گرے گا اور دوبارہ ستر سال کی مدت میں چڑھے گا اور یوں مسلسل اسی عذاب میں مبتلا رہے گا۔منہ کے بل چلائے جانے اور گھسیٹے جانے کا عذاب فرشتے کافروں کومنہ کے بل الٹا کرکے جہنم میں گھسیٹیں گے۔اس روز(کافر)منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس روز ان سے کہا جائے گا چکھو جہنم کی آگ کا مزا۔‘‘(سورہ قمر: بعض مجرموں کو قبر سے ہی منہ کے بل اٹھا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔میرے بھائیو تصور کرو جہنم کتنی بری اور کتنی بھیانک جگہ ہے اس میں داخل ہونے کے بعد ہمارا کیا حشر ہوگا اس لئے اپنے عمل کی اصلاح کرو اور خود بھی اور اپنے اہل وعیال بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ اللہ تعالٰی ہم سب کو جنہم کی آگ سے محفوظ فرمائے آمین۔











