اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ کے ضرورت مندوں تک سامان کی رسائی روک رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بدھ کو امریکی سفیر نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی علاقے میں ’تباہ کن انسانی صورتحال‘ کے باعث اقدامات تیز کرے۔
اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کی قائم مقام سربراہ جوائس مسویا اور امریکی مستقل مندوب لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شمالی غزہ میں بڑھتی ہوئی انسانی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے اسرائیل پر دباؤ بڑھایا۔
سلامتی کونسل کے عرب ملک الجزائر کی طرف سے بلائے گئے اجلاس سے قبل امریکہ نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ غزہ میں امدادی کارروائیوں کو بڑھانے سے نہ روکے بصورت دیگر وہ ہتھیاروں کی سپلائی کے لیے فنڈز کی فراہمی سے محروم ہو سکتا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو متعدد اقدامات کرنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا ہے جس میں روزانہ 350 ٹرک خوراک اور دیگر امداد غزہ بھیجنا شامل ہے۔اسرائیل کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ڈینی ڈینن نے اصرار کیا کہ ان کے ملک کی انسانی ہمدردی کی کوششیں ’ہمیشہ کی طرح جامع‘ ہیں۔
انہوں نے غزہ میں انسانی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنے پر سلامتی کونسل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’اسرائیلی شہریوں کو ہماری تباہی کے خواہاں افراد کی طرف سے روزانہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘












