واشنگٹن، (یواین آئی): پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی میں بڑی کامیابی حاصل کی، جبکہ فوجی اہلکار کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کو "بڑی شکست” دی گئی اور ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت پہلے سے مختلف ہے اور اب ایسے افراد سامنے آئے ہیں جو مذاکرات کے حامی ہیں۔یورینیم افزودگی کے حوالے سے سوال پر پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا کہ امریکہ کی مستقل پالیسی یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں، اور ایران یا تو رضاکارانہ طور پر اپنا افزودہ مواد حوالے کرے یا امریکہ کے پاس ردعمل دینے کا اختیار محفوظ ہے۔انہوں نے 2025 کی مشترکہ امریکی-اسرائیلی کارروائی “مڈنائٹ ہیمر” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اسی نوعیت کی کارروائی دوبارہ کی جا سکتی ہے۔امریکی وزیر دفاع کے مطابق اس جنگ میں ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی جوہری صلاحیت کو بھی بڑا دھچکا لگا۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے خود جنگ بندی کی درخواست کی، جس پر صدر ٹرمپ نے "رحم” کا مظاہرہ کیا۔پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ جنگ بندی ایک موقع فراہم کرتی ہے تاکہ اسے حقیقی امن اور معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے، تاہم امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال جنگ دو ہفتوں کے لیے معطل ہے لیکن فوجی ہائی الرٹ پر ہیں۔پریس کانفرنس میں بعد ازاں جنرل ڈین کین نے بھی خطاب کیا۔












