واشنگٹن، (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے دوران ایرانی فورسز نے چند امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ کئی امریکی فوجی ایرانی فورسز کے ہاتھوں قیدی بن چکے ہیں اور امریکا ان گرفتاریوں کو چھپانے کے لیے انہیں جنگ میں ہلاک ہونے والوں میں ظاہر کر رہا ہے۔تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ ایرانی حکومت دنیا کو دھوکا دینے کے لیے اس طرح کے دعوے کر رہی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بھی واضح کیا کہ ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کی گرفتاری کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس آپریشن کو امریکی حکومت نے "آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جو یکم مارچ کو کویت کی ایک بندرگاہ پر ایرانی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق اس جنگ میں اب تک تقریباً 1332 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے میں تقریباً 180 بچے بھی ہلاک ہوئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق یہ حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جنگ میں امریکا کو برتری حاصل ہے اور کارروائیاں بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ جنگ چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔تاہم امریکا کے اندر اس جنگ کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض سیاسی اور میڈیا شخصیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ایک طویل اور مہنگی جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت اس جنگ کی مخالفت کر رہی ہے اور اسے غیر ضروری قرار دے رہی ہے۔












