تہران (ہ س)۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو ہتھیاروں کے درجے کے قریب بڑھا دیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے جوہری پروگرام کو بڑھا رہا ہے حالانکہ وہ ایٹم بم رکھنے کے اپنے ارادے سے انکار کرتا ہے۔ایران کادعویٰ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ایجنسی کی طرف سے رکن ممالک کو بھیجی گئی دو خفیہ سہ ماہی رپورٹوں میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ 17 اگست تک ایران کے پاس 164.7 کلوگرام (363.1 پاؤنڈ) یورینیم افزودہ ہے جو کہ 60 فیصد تک کی شرح سے افزودہ ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق یہ تناسب جوہری بم بنانے کے لی درکارنوے فیصد تناسب زیادہ قریب ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار ہے۔عالمی توانائی ایجنسی کے پیمانے کے مطابق یہ مقدار اس مقدار سے تقریباً دو کلو گرام کم ہے جو کہ نظری اعتبار سے طور پر چار ایٹمی بم بنانے کے لیے کافی ہے اگر افزودگی کی ڈگری بڑھا دی جائے۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تہران نے ستمبر 2023 میں اپنے جوہری پروگرام کی نگرانی کرنے والے انتہائی تجربہ کار نیوکلیئر انسپکٹرز کو روکنے کے لیے جاری کیے گئے اپنے فیصلے پر بھی نظر ثانی نہیں کی ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے نگرانی والے کیمرے ابھی تک کام نہیں کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ایران نے ابھی تک آئی اے ای اے کی دو مقامات پر پائے جانے والے انسانی ساختہ یورینیم کے ذرات کی اصلیت اور موجودہ مقام کے بارے میں IAEA کی برسوں سے جاری تحقیقات کے جوابات بھی فراہم نہیں کیے ہیں جنہیں تہران ممکنہ جوہری مقامات کے طور پر قرار دینے میں ناکام رہا۔ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں خدشات زیادہ ہیں، کیونکہ ایران یورینیم کو 60 فیصد خالصتا تک افزودہ کر رہا ہے، جو کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے 90 فیصد کے قریب ہے۔ ایران کے پاس اس سطح کے لیے کافی افزودہ مواد موجود ہے۔مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ اس سطح تک یورینیم کی افزودگی سول مقاصد کے لیے نہیں ہوسکتی۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی دوسرے ملک نے جوہری ہتھیار بنائے بغیر اس سطح تک افزودگی نہیں کی جب کہ ایران اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے مقاصد مکمل طور پر پرامن ہیں۔












