لندن،(یو این آئی) برطانیہ نے ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر متعدد ایرانی شخصیات اور ادارے پر نئی پابندیاں لگا دی ہیں۔ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے پیر کے روز ایرانی حکام اور ایک ریاستی سیکیورٹی ادارے پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کر دیں، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انھوں نے حالیہ پُرامن مظاہرں کے خلاف پُرتشدد کریک ڈاؤن کو ممکن بنایا۔برطانوی دفترِ خارجہ نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں 10 افراد اور ایک ریاستی سیکیورٹی ادارے پر پابندیاں لگائیں۔ ان خلاف ورزیوں میں آزادیٔ اظہار کو دبانا، پُرامن اجتماع پر پابندیاں عائد کرنا، اور بعض معاملات میں زندگی کے حق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ پابندیوں کے تحت نامزد افراد کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے، انھیں ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا اور ان پر سفری پابندی بھی عائد ہوگی۔برطانوی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے ایک بیان میں کہا ’’ایرانی عوام نے حالیہ ہفتوں میں محض اپنے پُرامن احتجاج کے حق کو استعمال کرنے پر تشدد اور جبر کا سامنا کرتے ہوئے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’تشدد کی جو رپورٹس اور ہولناک مناظر دنیا بھر میں دیکھے گئے ہیں، وہ انتہائی دل دہلا دینے والے ہیں۔‘‘ ان پابندیوں میں سینئر پولیس افسران، پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں اور ایسے جج شامل ہیں جن پر پُرتشدد جبر کی ہدایت دینے، غیر معمولی سزائیں سنانے یا حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی عدالتی کارروائیاں کرنے کے الزامات ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی قانون نافذ کرنے والی فورسز کو مظاہرین پر تشدد میں کردار ادا کرنے پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ 10 افراد پر ایران کے سیکیورٹی اور عدالتی نظام میں بدسلوکی کو ممکن بنانے یا اس کی ہدایت دینے کے الزام میں پابندیاں لگائی گئیں۔ حکومت نے کہا کہ یہ اقدام یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے پہلے سے عائد پابندیوں کے بعد کیا گیا ہے، جن کا مقصد ایرانی حکام کو جوابدہ ٹھہرانا ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ ہفتے پاسدارانِ انقلاب کو بلاک کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔












