تہران (ہ س ) : ایران میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں قدامت پسند اور اصلاح پسند امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔کوئی بھی امیدوار واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ایرانی میڈیا کے مطابق کوئی امیدوار اگر الیکشن میں واضح اکثریت حاصل نہ کر سکا تو صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اگلے جمعے کو ہوگا۔دوسری جانب ایران کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اب تک ایک کروڑ 90 لاکھ ووٹ گنے جا چکے ہیں جس میں مسعود پیزشکیان نے 82 لاکھ، سعید جلیلی نے 72 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق محمد باقر کے27 لاکھ جبکہ مصطفیٰ پور کے محمدی کے 1 لاکھ 58 ہزار ووٹ ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق صدارتی انتخابات میں ووٹروں کی شرکت کا تناسب تقریبا 40 فیصد تک ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام نے اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہے کہ 6.1 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے کتنے فی صد نے ووٹ ڈالا۔جمعے کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں ووٹنگ ختم ہونے کا وقت شام چھ بجے تھا تاہم اس کو مجموعی طور پر چھ گھنٹے مزید بڑھا دیا گیا۔ہنگامی طور پر قبل از وقت ہونے والے یہ انتخابات ملک کا نیا صدر چننے کے لیے منعقد کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سابق صدر ابراہیم رئیسی گذشتہ ماہ 19 مئی کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔صدارتی انتخابات کو بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وزن دار قوت کی حیثیت رکھنے والا ایران بہت سے جیو پولیٹیکل بحرانوں کے بیچ ہے۔ ان میں غزہ کی جنگ سے لے کر جوہری طاقت کا مسئلہ شامل ہے۔آج ہونے والے صدارتی انتخابات میں چار امیدوار ہیں۔ ان سب کی عمر 50 سے 70 برس کے درمیان ہے۔ اگر ان میں سے کسی بھی امیدوار نے غالب اکثریت حاصل نہیں کی تو پھر پانچ جولائی کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہو گا۔ سال 1979 میں ایران میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد صرف ایک بار 2005 کے انتخابات میں یہ صورت حال پیش آئی تھی۔












