واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے جنگی بحری جہازوں کی روانگی کے ضمن میں وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے بیان دیا تھا کہ فوج صدر ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔جمعرات کی شام جب صحافیوں نے تہران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سوال کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا، ہاں… میرا یہی ارادہ ہے… اس وقت ہمارے بہت سے بڑے اور انتہائی طاقت ور بحری جہاز ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ بہت اچھا ہوگا کہ ہمیں انہیں استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے”۔ تاہم انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ یہ واضح کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے ان مذاکرات کی قیادت کون کرے گا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آج جمعہ کو ترکیہ کا دورہ کر رہے ہیں، جبکہ انقرہ نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی راستے کھولنے کی کوششوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ان امریکی حکام کی تصدیق کے ساتھ سامنے آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ صدر اپنے تمام اختیارات پر غور کر رہے ہیں، لیکن ایران پر حملے کے حوالے سے انہوں نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں شدت گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر ایرانی حکام کے "خونی کریک ڈاؤن” کے بعد آئی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے مظاہرین کو نشانہ بنانا بند نہ کیا تو وہ مداخلت کریں گے۔ البتہ ابتر معاشی صورتحال کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں کی شدت میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کر رکھا ہے کہ اگر تہران نے گذشتہ جون (2025) میں اہم ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کے بعد اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو وہ سخت کارروائی کریں گے۔












