تہران :16نومبر /سماج نیوز سروس ۔ایران کے تین سینئر عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کو نومبر کے اوائل میں ہی تہران میں ملاقات کرتے ہوئے واضح پیغام دے دیا تھا کہ چونکہ حماس نے ایران کو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا اس لیے تہران کا حماس کی جانب سے جنگ میں شامل ہونے کاسوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔
علی خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کو بتایا تھا کہ ایران براہ راست مداخلت کیے بغیر حماس کے لیے اپنی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ بعض عہدیداروں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی سپریم لیڈر اور حماس رہنما کی اس بات چیت کا انکشاف کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ علی خامنہ ای نے ھنیہ پر زور دیا کہ وہ فلسطینی تحریک میں ان آوازوں کو خاموش کر دیں جو کھلے عام ایران اور اس کے لبنانی اتحادی حزب اللہ گروپ سے اسرائیل کے خلاف جنگ میں پوری طاقت کے ساتھ شامل ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
دریں اثنا حزب اللہ کے قریبی تین ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ حماس کی طرف سے گزشتہ ماہ شروع کیے گئے حملے سے بھی حیران تھا اور سرحد کے قریب دیہاتوں میں بھی حزب اللہ کے جنجگو اس حملے کے لیے تیار نہیں تھے۔
حزب اللہ کے ایک رہنما نے کہا کہ ہم جنگ کے لیے بیدار ہیں۔ اپنی طرف سے بیروت میں کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر میں حزب اللہ کے امور کے ماہر مہند الحاج علی نے کہا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے نے اس کے شراکت داروں کو اپنے سے بہت بڑی اور طاقتور فوج کے ساتھ لڑنے کے انتہائی مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کردیا ہے۔
یاد رہے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد عراق، شام اور لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ کئی دھڑوں اور گروہوں کی طرف سے اسرائیل کو دھمکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون بھی داغے ہیں۔ بہت سے مغربی ملکوں اور تجزیہ کاروں نے غزہ میں جاری جنگ کے وسیع تر علاقائی تنازع میں پھیلنے کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے۔ظاہر ہے ایران اس آگ میں براہ راست کودنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہے اور فلسطینیوں کو اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی ۔کیونکہ عرب ممالک کے اجلاسوں میں بھی عرب ممالک اس بات پر متفق نہیں ہوئے کہ اسرائیل سے تمام عرب ممالک اپنا تعلق توڑ لیں اور اسرائیل کو فراہم کی جانے والے پٹرول لائن کو بھی بند کردیں ۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ عرب دنیا اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ روکی جائے اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بیٹھ کر بات ہو تاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دو آزاد اور خود مختار ملک کا قیام عمل میں آئے لیکن اسرائیل اور اس کا سرپرست امریکہ بضد ہے کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے جس مہم میں شامل ہے اسے انجام تک پہنچائے گا ۔اور وہ یہ کام کر بھی رہا ہے ۔
اس درمیان تازہ خبر یہ ہے کہ
غزہ کے علاقے صابرہ میں اسرائیلی فوج نے مسجد پر بھی حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے وسطی غزہ کے علاقے صابرہ میں مسجد پر اس وقت بم باری کی جب مسجد میں نماز جاری تھی اور مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔میڈیا کی خبر کے مطابق 7اپریل سے جاری اسرائیلی حملوں میں 55سے زیادہ مساجد پوری طرح تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 139مساجد کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔خبر کے مطابق گذشتہ شب نوصائرت پناہ گزین کیمپ کے مائیشین اسکول پر ہونے والی بمباری میں بھی تین فلسطینی شہید ہوئے ہیں ۔واضح ہو کہ اسرائیلی فوج کی غزہ کی بمباری کو 40روز ہوچکے ہیں جس میں اب تک ساڑھے گیارہ ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ پچیس ہزار سے زاید فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں جن کے علاج کا اب وہاں کوئی انتظام نہیں ہے کیونکہ ایک ایک کر کے تقریبا تمام ہسپتال کو اسرائیلیوں نے تباہ کر دیا ہے ۔
ReplyForward |












