تہران(ہ س)۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے تمام شہروں کے باشندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر انخلاء کریں۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا پء جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح سب سے تہران چھوڑ دینے کی اپیل کی۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اسرائیل کے تمام شہر اور تنصیبات اب جائز فوجی اہداف شمار ہوں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ فضائی و خلائی افواج آئندہ چند گھنٹوں میں اسرائیل پر درست نشانہ بنانے والے حملے کریں گی۔ادھر اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ گھنٹوں میں ایران کی جانب سے مزید حملے متوقع ہیں۔ تاہم، العربیہ/الحدث کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے عوام کو پناہ گاہوں سے محفوظ طریقے سے نکلنے کی ہدایت دی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ حالیہ ایرانی میزائل حملے کا خطرہ ختم ہو چکا ہے۔یہ پیش رفت اْس وقت ہوئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کر لینے چاہیے تھے۔ انھوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا: "ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی… میں یہ بات بارہا دہرا چکا ہوں! سب کو فوراً تہران چھوڑ دینا چاہیے!” انھوں نے مزید کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع افسوس ناک ہے۔اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے قومی سلامتی کونسل کو آپریشن روم میں مستعد رہنے کی ہدایت دی، یہ بات فوکس نیوز نے بتائی۔دوسری طرف ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے سرکاری خبررساں ایجنسی "ارنا” کو بتایا کہ "نویں مرحلے کا مشترکہ حملہ ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے شروع ہو چکا ہے اور صبح تک بغیر رکے جاری رہے گا۔ایرانی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران "اسرائیل کی مسلسل جارحیت” پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ایک فوری بیان میں کہا گیا کہ تہران "اسرائیل کی رات کو دن میں بدل دے گا۔” ایرانی میڈیا کے مطابق یہ نیا حملہ تل ابیب اور حیفا کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ بات خبر رساں ادارے "تسنیم” نے بتائی۔یاد رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کی رات "اْبھرتا ہوا شیر” (رائزنگ لائن) کے نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کیا تھا، جس میں ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں فوجی ٹھکانوں، جوہری تنصیبات، پولیس اور وزارت خارجہ کی عمارتوں کو تہران میں بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔ ساتھ ہی، درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔












