تہران، (یو این آئی) ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئے، عالمی میڈیا ادارے اس تبدیلی کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اس وقت دنیا بھر کے سفارتی اور صحافتی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔عالمی میڈیا ادارے اس تبدیلی کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں سرگرم رہے ہیں، جو پالیسیوں میں تسلسل کا واضح اشارہ ہے۔الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے انتخاب نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کو "بے معنی” کر دیا ہے، کیونکہ نئی قیادت مزاحمتی نظریات پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے انہیں مزید تقویت دے سکتی ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا تعلیمی اور فوجی پس منظر انتہائی سخت نظریاتی تربیت پر مبنی ہے، انہوں نے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) میں باقاعدہ خدمات انجام دی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں عسکری اور انٹیلی جنس حلقوں میں گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے۔امریکی تجزیہ کاروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کی ناکامی سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ہے۔ممتاز تجزیہ کار باربرا سلاوِن نے ایک چبھتا ہوا سوال اٹھایا ہے کہ "اگر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد قیادت ان کے بیٹے کو ہی ملنی تھی، تو اس تمام جنگ اور تباہی کا کیا فائدہ حاصل ہوا؟”ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اپنے خاندان کے افراد کی شہادت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای مغرب اور اسرائیل کے خلاف مزید سخت اور جارحانہ موقف اختیار کر سکتے ہیں، جو آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔












