بغداد/دبئی، (یواین آئی ) عراقی مردوں کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ گراہم آرنلڈ نے فیفا سے ہنگامی مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر ورلڈ کپ کے انٹر کانٹیننٹل کوالیفائر میچ کو ملتوی کیا جائے۔عراق کو 31 مارچ کو میکسیکو کے شہر مونٹیری میں سورینام یا بولیویا کے خلاف ایک انتہائی اہم پلے آف میچ کھیلنا ہے، لیکن جنگ کی وجہ سے ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔جنگ کے باعث عراق کی فضائی حدود یکم اپریل تک بند ہے، جس کی وجہ سے مقامی لیگ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی ملک سے باہر نہیں جا پا رہے ہیں۔غیر ملکی سفارت خانوں کی بندش کی وجہ سے کھلاڑیوں کو میکسیکو کے ویزے حاصل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ ہیڈ کوچ گراہم آرنلڈ خود اس وقت متحدہ عرب امارات میں پھنسے ہوئے ہیں اور اپنی ٹیم تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔آسٹریلیا کے سابق کوچ گراہم آرنلڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”خدا کے لیے اس میچ کے سلسلے میں ہماری مدد کریں، کیونکہ اس وقت ہم اپنے کھلاڑیوں کو عراق سے باہر نکالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ 40 سالوں میں ملک کا سب سے بڑا میچ ہے اور ہم اپنی بہترین ٹیم کے بغیر نہیں کھیلنا چاہتے۔انہوں نے تجویز دی کہ فیفا کو چاہیے کہ وہ فائنل پلے آف کو ورلڈ کپ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل تک ملتوی کر دے تاکہ حالات بہتر ہونے پر ٹیم کو تیاری کا موقع مل سکے۔ایران نے ورلڈ کپ کے لیے سب سے پہلے کوالیفائی کیا تھا، لیکن موجودہ جنگ اور میزبان ملک (امریکہ) کے حملوں کی وجہ سے ان کی شرکت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ آرنلڈ کا کہنا ہے کہ اگر ایران دستبردار ہوتا ہے تو عراق براہِ راست ورلڈ کپ میں جا سکتا ہے، یا پھر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو پلے آف کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔عراق نے آخری بار 1986 میں ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، اور 40 سال کے طویل انتظار کے بعد یہ ان کے پاس بہترین موقع ہے۔ وفاق کے صدر عدنان درجال بھی چوبیس گھنٹے کوششوں میں مصروف ہیں کہ کسی طرح ٹیم کو میدان میں اتارا جا سکے اور عراقی عوام کا خواب پورا ہو سکے۔












