تل ابیب (ہ س)۔آئرش حکومت نے منگل کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی اسرائیلی بستیوں سے اشیاء کی درآمد پر پابندی کے مسودہ بل کی منظوری دے دی۔ یہ یورپی یونین کے کسی رکن ملک کے لیے ایک بے مثال اقدام ہے۔بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے گذشتہ سال ایک مشاورتی رائے میں مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضے کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیا تھا جس کے بعد یہ اقدام سامنے آیا ہے۔ آئرش حکومت نے کہا کہ اس کا یہ فیصلہ عدالت کی مشاورتی رائے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔آئرش وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا، "حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں کے ساتھ اشیا کی تجارت پر پابندی کے لیے قانون سازی کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ حکومت کا نظریہ ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک ذمہ داری ہے۔ان آبادیوں میں رہائشی، زرعی اور کاروباری مفادات شامل ہیں جو اسرائیل کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں سے باہر ہیں۔کابینہ کے فیصلے سے پہلے وزیرِ خارجہ سائمن ہیرس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین کے دیگر ممالک آئرلینڈ کی قیادت کی پیروی کریں گے۔میں آج امید کرتا ہوں کہ جب یورپ کا یہ چھوٹا ملک فیصلہ کرے گا اور اس معاملے میں قانون سازی پر غور کرنے والا شاید دنیا کا اولین مغربی ملک بن جائے گا تو اس سے دوسرے یورپی ممالک کو ہمارے ساتھ شامل ہونے کی ترغیب ملے گی۔” ہیرس نے کہا جو آئرلینڈ کے نائب وزیرِ اعظم بھی ہیں۔گذشتہ مئی میں سپین، ناروے اور ایک ماہ بعد سلووینیا کے ساتھ مل کر آئرلینڈ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جس پر اسرائیل نے انتقامی کارروائیاں کیں۔گذشتہ ماہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا تھا کہ پیرس جون کے اوائل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے۔یورپی یونین نے ای یو-اسرائیل ایسوسی ایشن معاہدے پر نظرِ ثانی کا حکم دیا جس کے ایک ہفتے بعد ڈبلن کا منگل کو یہ اقدام سامنے آیا ہے۔ ای یو-اسرائیل تعاون کا ایک معاہدہ ہے جس پر 1995 میں دستخط کیے گئے تھے اور یہ اسرائیل کے یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کی بنیاد ہے۔یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کاجا کالاس نے کہا کہ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں 27 رکن ممالک کی "واضح اکثریت” نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس اقدام کی حمایت کی۔آئرلینڈ کی جانب سے درآمد پر پابندی علامتی اور کم از کم معاشی اثرات کی حامل ہو گی کیونکہ اسرائیلی مقبوضہ علاقوں کے ساتھ تجارتی حجم کی مالیت 2020 اور 2024 کے درمیان ایک ملین یورو (1.1 ملین ڈالر) سے کم تھی۔ یہ تجارت پھلوں، سبزیوں اور لکڑی جیسی اشیاء تک محدود تھی۔کرسچن ایڈ آئرلینڈ میں ایڈووکیسی اور پالیسی کے سربراہ کونر او نیل نے کہا، "آبادیوں کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے پر یورپی یونین کی سطح پر تنقید کا ناکام تعطل عشروں سے جاری تھا۔ یہ اقدام ایک طرف تو اس تعطل کو توڑتا ہے جبکہ دوسری طرف انہیں اہم اقتصادی مدد فراہم کرتا ہے۔












