بنگلور، پریس ریلیز،ہمارا سماج: نماز جمعہ سے قبل ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد جمال الدین صاحب صدیقی رشادی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم الدین گنگانگر بنگلور32نے خطبہ جمعہ میںزندگی کے قیمتی لمحات اور ہماری ذمہ داری کے موضوع پر بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا 2025 کا سال اب ہم سے رخصت ہورہا ہے، 2026 کا سال شروع ہوا چاہتا ہے ،یہ ماہ او رسال یہ رات اوردن یہ اوقات اور لمحات کی گردش آنا جانا اﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے عظیم نشانی ہے، اﷲ رب العزت نے ہمیں اس کائنات میں جو بہت سی بے شمار اور ان گنت نعمتیں دی ہیں، ان میں سے ایک بہت بڑی نعمت وقت ہے، ہماری زندگی ہے، ہماری عمر ہے، آئے دن گذرتے ہوئے یہ لمحات زندگی دن ہفتہ مہینہ سال ان کو ہم کن کر حساب کرکے سمجھتے ہیں، ہماری عمر بڑھ رہی ہے، ہمارے اوقات بڑھ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے ہماری عمر گھٹ رہی ہے اور ہر لمحہ وقت جیسی عظیم نعمت ہمارے ہاتھوں سے نکلتی جاتی ہے، مثل مشہور ہے گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں، مولانا نے دوران خطاب فرمایا افسوس ہے آج کے ترقی یافتہ دور میں نادان نئے سال کا جشن مناتے ہیں، رقص و سرور، موج ومستی، شباب وکباب، آتش بازی ا ور فحاشی کی محفلیں منعقد کرتے ہیں، یہ سب کا سب عیسائیوں یہودیوں اور دنیا بھر کی بے ایمان قوموں کا ایجاد کیا ہو ا عمل ہے، جس میں آج مسلمان بھی ملوث ہیں، عیسائیوں اوریہودیوں کے نقش قدم پر چل کر سال نو کا جشن مناتے ہیں اور بڑے ہی دھوم سے مناتے ہیں یہ بھول جاتے ہیںکہ ہم کون ہیں،ہمیں کن اعمال کا حکم دیا گیا ہے اور کن سے مناکیا گیا ہے، آج دسمبر کی 26تاریخ ہے، کل27تاریخ ،پرسوں 28 تاریخ، ترسوں30,29 تاریخ، بروزچہارشنبہ31دسمبر کی شب12بجتے ہی دنیا بھر کی قومیںنیا سال کا جشن مناتے ہوئے انسانیت ،شرافت، تہذیت و تمدن، شرم وحیا کی ساری حدیں پارکر جاتے ہیں، انہیںکسی چیز کا بھی احساس تک نہیں ہوتا ہے،مسلمانوں کو چاہیے اس موقع پر ان تمام چیزوں سے بچیں، اسلا م ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا ہے ، اسلام میں سال نو کا جشن منانا منع ہے، نیاسال کا جشن منانے والو ،ذرہ تو سوچو ہم کس نبیؐ کے امتی ہیں، کنؐ سے ہماری نسبت قائم ہے، اسلام نے ہمیں کیا سکھایا ہے، اسلامی تعلیمی اور احکامات ہمارے لیے کیا ہیں، رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے ہمیں کیسا پاکیزہ نظام زندگی اور دستور حیات عطا فرمایاہے، یہ موقع خوشی و مسرت کا نہیں ، یہ موقع تو احتساب کا ہے، غور و فکر کا ہے، زندگی کے گذرے ہوئے ان قیمتی لمحات کو ہم نے کس طرح گذارا ہے، ہم نے کیا پایا ہے اور کیا کھودیا ، مولانا نے دوران خطاب فرمایا زمانہ اور وقت کی قدر و قیمت کا اندازہ آپ اس سے لگائیے اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کتنے مقامات پر وقت کی قسم کھائی ہے، کبھی رات اور دن کی قسم کھائی، کبھی رات کیساتھ شفق کی قسم کھائی، کبھی فجر اور اس کے ساتھ دس راتوں کی قسم کھائی ہے، کبھی دن کی روشنی اور رات کے چھاجانے کی قسم کھائی ہے، کبھی خود زمانہ کی قسم کھائی ہے، رات اور دن کی آمد و رفت اورچاندو سورج کے طلوع و غروب سے اوقات کا علم ہوتا ہے، قرآن مجید میں اﷲ رب العزت نے ان کا ذکر نعمت کی حیثیت سے کیا ہے، اﷲ تعالیٰ قیامت میں انسانوں سے اس کی عمر کے بارے میں بھی سوال فرمائیں گے کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی، جس میں نصیحت حاصل کرنے والے لوگ نصیحت حاصل کرسکیں،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر آدمی سے اس کاسوال کیاجاے گا اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری اور اپنی جوانی کو کس مقصد میں صرف کیا،حضرت عبد اﷲ بن عباس ؓ راوی ہیں آپؐ نے ارشاد فرمایا دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ غفلت میں مبتلا ہیں، صحت اور فراغت وقت، اﷲ تعالیٰ غفلت سے ہماری اورا مت مسلمہ کی حفاظت فرمائے،غیر اسلامی اُمور کو انجام دینے سے ہمیں بچائے، اسلامی تعلیمات اور احکامات پر عمل کی ہمیں توفیق عطا فرمائے،سا ل نو کی آمد کے موقع پرغیر اسلامی امور سے اﷲ تعالیٰ ہم سب کی اور امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔












