اسلام میں نکاح کی بہت زیادہ اہمیت آئی ہے ،ا سی لئے کہا گیا ہے کہ نکاح کو آسان سے آسان تر بنایا جا ئے ۔ شریعت اسلامی میں نکاح نام ہے کم از کم دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول اور مہر کی ادائیگی کا ۔ نیز نکاح کے معاملے میں نہ باراتیوں کی لمبی قطار کا ، نہ جہیز کا ، نہ عمدہ سے عمدہ کھانوں کے نظم و نسق کا اور نہ کسی اسراف و فضول خرچی کا کوئی تصور پایا جا تا ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں نکاح کا رواج اسلام کے بتا ئے ہو ئے طریقے سے بالکل ہٹ کر ہو نے لگا ہے ۔ جس کی وجہ کر غریب اور یتیم لڑکیاں کا فی لمبی عمر تک اپنے والدین کے گھروں میں پڑی رہتی ہیں ، کیونکہ ان کے پاس جہیز دینے کے لئے سامان میسر نہیں ۔
شرعی نقطہ نظر کے مطابق نکاح میں سب سے زیادہ اہمیت مہر کی ہو تی ہے ، مگر مہر ہی وہ چیز ہے جسے بر صغیر میں یاتو ادا ہی نہیں کیا جا تا ، یا پھر شوہر پہلی ملاقات کے مو قع پر یا مر تے وقت معاف کر ا لیتا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ جس مہر کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرض قرار دیا ہے لیکن اسی فرض کو نکاح کے مو قع پر فراموش کر دیا جا تا ہے ، چاہے وہ نو شہ ہو ، نوشہ کے والدین ہو ں یا پھر نکاح پڑھا نے والا قاضی اور مولوی ہو، نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ بیوی فوت ہو گئی تو شوہر کھڑے ہو کر مہر کو معاف کروا نے کی گہا ر لگا تا ہے اور اگر شوہر مر گیا تو بیوی کھاٹ پکڑ کر اپنا مہر چند جاہل عورتوں کی ایما پر معاف کر دیتی ہے ، حالانکہ اس قسم کے معافی کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں ۔ جبکہ اس کے بر عکس جہیز کے نام پر لڑکے والوں کی طرف سے بڑی بڑی فرمائیش اور قیمتی عطیات لا نے کا ظالمانہ تقاضا کیا جا تا ہے اور بسا اوقات ان چیزوں کی عدمِ دستیاب کی وجہہ سے لڑکی کو تنگ کیا جا تا ہے اور اسے مار ا پیٹا بھی جا تا ہے ، جس کے نتیجے میں بہت سے ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں کہ جہیز نہ ملنے کی صورت میں لڑکی کو جلا بھی دیا جا تا ہے یا پھر اُسے خود سوزی اور خود کشی کر نے پر مجبور کر دیا جا تا ہے اور اس طرح کی واردات کسی ایک جگہ پر نہیں بلکہ ہر جگہ پیش آتی رہتی ہیں ۔
قارئین محترم ! یہ سب کچھ آج ایک زما نے سے ہو تا چلاآرہا ہے مگر کبھی بھی کسی مولوی نے اس طرف دھیان نہیں دیا اور نہ ہی ان جاہلانہ رسومات سے امت کو آگاہ کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے شادی کے مو قع پر اور بھی طرح طرح کی نئی نئی رسومات ایجاد ہو گئے اور آج جب حد سے زیادہ نکاح میں بے جا خرافات بڑھ گئی تو ہمارے ملک کے سوئے ہو ئے علما ءبیدا ر ہو ئے ہیں اور جہیز کے خلاف ، ڈی جے کے خلاف اور با جے کے خلاف ایک مہم چھیڑ رکھی ہے اور یہ اعلان کر دیاگیا ہے کہ جو شادی میں با جا لے کر آئے گا اس کی نکاح نہیں پڑھا یا جا ئے گا ۔ یعنی جس طرح اقبال صاحب نے لکھا کہ”برق گرتی ہے تو بے چار ے مسلمانوں پر‘ ‘ آج بالکل اسی طرح مولویوں کی بجلی گری ہے تو صرف با جے والوں پر ۔ جب سے یہ مہم چلائی گئی ہے تب سے اب تک صرف ہم نے شادی کے مو قع پر با جا ہی بند پایا ہے بقیہ جتنی بھی رسومات بد ہیں وہ سب جا ری ہیں ۔
محترم حضرات ! آج بھی مسلم معاشرے میں شادی کے مو قع پر نو شہ و عروس کے جسم پر ہلدی اور اُبٹن لگائی جا رہی ہے ، ہاتھ اور پاؤں میں مہندی رچائی جا رہی ہے ، آج بھی رات کو گلگلے پکا کر رت جگا منایا جارہا ہے اور اہل صبح مسجدوں میں عورتیں جا کر گلگلے سے مسجد کے طا قوں کو بھر تی ہیں اور وہی گلگلے مولوی اور موذن کے لئے صبح کا نا شتہ ہو تا ہے ، آج بھی پچیس ، پچاس ہزار میں میرج ہال بک کیا جا رہا ہے ، آج بھی پچاس قسم کے ڈیشیں بنائی جا رہی ہیں ، آج بھی بارات میں ڈیڑھ دو سو لوگوں کی جماعت ہو تی ہے ۔ آج بھی مولوی نکاح پڑھا نے کے عوض میں طے شدہ رقم لے کر اپنا راستہ ناپ رہا ہے ، آج بھی جہیز کے رو پ میں نقدی رقم لی جا رہی ہے اور دیگر سامانات کی فرمائیش بھی کی جا رہی ہیں ۔ الغرض صرف باجا کو چھوڑ کر با قی جتنی بھی بد عات و خرافات اور لغو یات شادی کے مو قع پر کی جا تی تھیں آج بھی بالکل اُسی طرح جا ری ہیں ۔ سو میں ایک فیصد لوگ ایسے ہیں جو ان تمام رسوم و رواج سے مبرا ہیں پاک ہیں ۔ ورنہ عالم ہو یا فاضل ، غریب ہو یا امیر، دانشور ہو یا جاہل ، مولوی ہو یا مفتی سب کے سب جہیز جیسی رسم کے غلام ہیں ۔
حضرات ! میں یہ نہیں کہتا کہ شادی میں باجا بجانا اور ناچنا جا ئز ہے بلکہ میں بھی مانتا ہوں کہ بے شک شادی بیاہ میں ناچنااور با جا بجانا نا جا ئز ہے لیکن جس طرح شادی کے مو قع پر دو خرافات نا جا ئز ہیں اُسی طرح سے شادی کے مو قع پر کی جا نے والی وہ تمام مذکورہ رسومات بھی نا جا ئز ہیں ۔ اس پر بھی قد غن لگایا جا ئے ،میں ایک طالب علم ہو ں میں آج بھی بڑے بڑے دانشوروں ، اسکالروں اور مولویوں و مفتیوں کو سنتا ہو ں اور سیکھنے کی کو شش کر تا ہوں ۔ اس لئے میں ان مفاد پرست ، چندہ خور ، مسلکی مولویوں سے مخاطب نہیں ہو ں بلکہ حق پرست علما سے مو دبانا گذارش کر تا ہو ں کہ جس طرح آپ نے شادی میں ناچ اور باجا بند کر دیا ہے اسی طرح یہ تمام رسوم و رواج بھی ختم کر وائیں ۔کیونکہ شادی میں با جا بجوا کر بارات لے جا ئیں یا نچوا کر لے جا ئیں یا نعت پڑھوا کر لر جا ئیں یہ کسی بھی صورت جائز نہیں کیونکہ اسلام میں بارات کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ ایک ہندوانہ رسم ہے اور اب میں چند اشا رے دے رہا ہوں میری ان اشارات پر غور کریں ، با رات ایک ہندوانہ رسم ہے اسلام میں بارات کی کوئی گنجائش نہیں ، آپ بارات کو ہی ختم کر دیں تو باجا اور نا چ خود بخود ختم ۔ جہیز چا ہے وہ نقد رقم کی شکل میں ہو یا سامان کی شکل میں ، جو اس کی لین دین کرے گا چاہے وہ امیرِ وقت ہو یا غریبِ زما نہ ان کا بھی نکاح کوئی مولوی نہیں پڑھا ئے گا ۔ جو شخص مہر کی رقم جو کہ فرض ہے وہ نکاح سے قبل ادا نہیں کر تا تو ا سکا بھی نکاح نہیں پڑھایا جا ئے گا ۔ دیڑ ھ دو سو بارات لے کر آنے والے دولہے کا بھی نکاح نہیں پڑھایا جا ئے گا ، شادی سے پہلے رت جگا کر نا اور رات بھر گلگلے پکا کر صبح مسجد کے طا قوں کو بھر نے والوں کے یہاں بھی نکاح پڑھا نے کوئی نہیں جا ئے گا ۔ نکاح صرف اور صرف اس کی پڑھائی جا ئے گی جس کی شادی بالکل نبی پاک ﷺ کے حکم کے مطابق ہو گی ، شریعت کے مطابق ہو گی ، شریعت سے ہٹ کر اگر کوئی بھی عمل کیا جا ئے گا شادی کے مو قع پر تو نکاح نہیں پڑھایا جا ئےگا ۔
آخر میں میں گارجین حضرات سے التماس کر تا ہوں کہ آپ اپنے بیٹے اور بیٹیوں کی شادی میں خدارا فضول خرچ نہ کریں ۔ نہ جہیز دیں ، نہ جہیز لیں ، دنیا بھر کی رسومات جو شادی کے مو قع پر کی جا تی ہیں یہ سب شیطانی رسومات ہیں ان سے احتراز کریں ۔ صرف نکاح کے وقت مولوی کا ان نکاح من سنتی پڑھ دینے سے نکاح سنت کے مطابق نہیں ہو تا بلکہ تمام رسوماتِ بد چھوڑ کر اور شریعت کے مطا بق شادی عمل کرینگے تبھی نکاح سنت کے مطابق ہو گی ۔نکاح کے وقت لڑکے ساتھ صرف گھر کے دو چار فرد جائیں ، مسجد میں نکاح کریں ، اور گھر واپس آجائیں بغیر دلہن کے۔ بعد میں دلہن کے والدین ایک وقت مقررہ پر خود لڑکی کو آپ کے گھر پہچا دینگے ۔ یہی ہے نبی کا طریقہ اور یہی ہے اسلام ۔دوسری بات ان تمام فضول خرچی سے اپنے آپ کو بچائیں ، کیونکہ آپ جتنا روپیہ خرچ کرینگے صرف وقتی طور پر لوگ آپ کی تعریف کرینگے لیکن اللہ کی نظر میں آپ شیطان کے بھائی قرار دئیے جا ئینگے ۔ آپ کا روپیہ بھی خرچ ہو گا اور وقت بھی ، صرف دو چار دن کی نام و نمود کے لئے اللہ کے بندوں کو خوش نہ کریں بلکہ ہمیشہ کے لئے اپنے رب کو خوش کریں ، بالکل آسان اور سادہ نکاح کر ے ، تیسری بات جہاں آپ لاکھوں روپئے خرچ کر تے ہیں وہ بھی نقد وہاں آپ کو مہر کی رقم ،جو کہ دس ہزار ، بیس ہزار ، پچیس ہزار یا پچاس ہزارہو تے ہیں خدا کے واسطے اسے بھی نقد ادا کریں کیونکہ مہر معجل ہو تا ہے مہر موجل اور مہر مطلق نہیں ہو تا ۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک دن تو کیا ایک گھنٹہ کے لئے بھی مہر کو اُدھار نہیں رکھا ، پھر آپ جو کہ لا کھوں رو پئے خرچ کر ڈالتے ہیں تو آپ کو یہ زیب نہیں کہ مہر کی رقم کو آپ اُدھار رکھیں ۔کیونکہ مہر کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے اور خوش دلی کے ساتھ اس کی ادائیگی حکم دیا ہے ۔ (سورہ بقرہ آیت نمبر ۶۳۲ ، ۷۳۲۔سورہ النسا ، آیت نمبر ۴، ۴۲،۵۲۔ سورہ مائدہ ، آیت نمبر ۵۔ سورہ احزاب ، آیت نمبر ۰۵ اور سورہ ممتحنہ ، آیت نمبر ۰۱) ۔ اسی طرح اللہ کے نبی رسول اکرم ﷺ نے بھی یہ بات واضح کر دی ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر مہر ادا کئے عورت کی عصمت سے استفادہ کر تا رہا ہے تو قیامت میں جب وہ اللہ سے ملے گا تو ا سکی حیثیت زانی کی ہو گی (مسند احمد ، سنن الکبری ، بیہکی، ابی شیبہ ) یہی وجہہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے کوئی ایک بھی نکاح اس وقت تک نہیں پڑھایا جب تک کہ نکاح سے قبل مہر کی ادائیگی نہ کر دی گئی ہو ۔ کسی ایک واقعے میں بھی مہر کو آپ ﷺ نے ایک دن کے لئے بھی قرض نہ کیا ۔ تو پھر آپ حضرت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ اپنی مر ضی کے مطابق مہر کی ادائیگی کریں ۔ بلکہ تمام فضول خرچی کو ترک کریں اور مہر جو طے ہے اسے نکاح سے قبل ادا کریں اور اگر کوئی بھی مولوی یہ کہے کہ مہر ادا کر نے کی نیت ہی کا فی ہے تو ان مولویوں کو بر جستہ جواب دیں کہ حضرت فی الحال تو میرے پاس آپ کا نذرانہ دینے کے لئے رقم بچا ہی نہیں لیکن میری نیت ہے کہ میں آپ کو ادا کر دونگا ، پھر دیکھیں کہ وہ کس طرح اپنی بغلیں جھانکتا ہوا نظر آئے گا یا پھر کوئی نیا پینترا بدل کر آپ سے اپنا نذرانہ وصول کر کے ہی اپنی راہ لے گا ۔












