اتر دیناج پور،ہماراسماج:یکم دسمبر بروز جمعرات بوقت سات بجے صبح سے لیکر دس بجے رات تک ایک عظیم الشان سیمینار، سمپوزیم اور اجلاس عام بعنوان:اسلام امن وشانتی کا پیامبر بمقام جامعۃ الامام الالبانی بوڑھیان، مگنا بھیٹنا، کرندھگی، اتر دیناج پور مغربی بنگال ہند کاانعقاد عمل میں آیا، جو پورے بنگال وبہار میں اپنی نوعیت کا انوکھا اور نایاب و کامیاب پروگرام تھا۔ اس سیمینار، سمپوزیم اور اجلاس عام کا واحد مقصد ملک میں امن و شانتی کا ماحول پیدا کرنا اور اخوت و بھائی چارگی کو فروغ دینا اور ملک سے انارکی، کشیدگی اور فتنہ وفسادات کا قلع قمع کرناہے، تاکہ پورے ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہو، جس کے سائے تلے باشندگان ہند اپنی اپنی زندگی محبت وبھائی چارگی کے ساتھ گزار سکیں، موجودہ حالات میں اغیار کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف پھیلائے جا رہے پروپیگنڈہ کہ اسلام کے ماننے والے ہی ملک میں بدامنی وانارکی پھیلا رہے ہیں،اسی خام خیالی کی تردید کرنے کیلئے مطیع الرحمن شیث محمد المدنی (ڈائریکٹر جامعہ الامام الالبانی) نے پورے عزم واستقلال کے ساتھ ایک روزہ پروگرام منعقد کیا جو تین نشستوں پر مشتمل تھا۔پہلی نشست ایک سیمینار کی صورت میں منعقد کی گئی جس کی صدارت طارق صفی الرحمن مبارکپوری (رئیس جمعیۃ خریجی الجامعات السعودیہ بالند ) تھے۔جبکہ ناظم اجلاس نثار احمد مدنی، سابق عمید جامعہ سنابل وشیخ الجامعہ جامعۃ التوحید ممبئی تھے۔ الحمد للہ تمام محاضرین حضرات نے مدلل اور پرمغز خطاب فرمایا آخر میں صدر سیمینار نے اپنی کلیدی گفتگو کے ذریعے امن وامان کے اصول وضوابط کو مزید وضاحت فرمائی۔ دوسری نشست سمپوزیم پر مشتمل تھی اور شیخ اسعد الاعظمی استاد حدیث جامعہ سلفیہ بنارس تشریف فرما تھے۔ جبکہ نظامت کی ذمہ داری تنویر ذکی مدنی اور عبید الرحمن بخاری گیسٹ ٹیچر عالیہ یونیورسٹی کولکاتہ نے سنبھال لی۔ واضح رہے کہ یہ سمپوزیم 11بجے سے لیکر 12:30بجے تک ڈبیٹ کے انداز میں ہوا جس میں امن و امان کے اصولوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ تیسری نشست اجلاس عام پر مشتمل تھی، جس کا سہرا شیث محمد السلفی اور مزمل الحق مدنی کے سر تھا۔ ان کے علاوہ بنگال وبہار کے عبقری علماء بحیثیت خطیب اسٹیج کی زنیت بنے رہیں، خاص طور پر رئیس جامعہ الامام الالبانی فضیلۃ الشیخ مطیع الرحمن شیث محمد المدنی حفظہ اللہ ورعاہ اور دیگر جملہ اساتذہ وذمہ داران شامل سیمینار، سمپوزیم، اجلاس عام رہیں۔












