غزہ، 20 اکتوبر : فلسطینی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں واقع ایک چرچ کے احاطے میں پناہ لینے والے متعدد بے گھر افراد اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہو گئے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملے میں یونانی آرتھوڈوکس سینٹ پورفیریئس چرچ کے احاطے میں بڑی تعداد میں شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ بظاہر اس حملے کا مقصد اس عبادت گاہ جس میں غزہ کے بہت سے باسیوں نے فلسطینی علاقوں میں جنگ کے دوران پناہ لی تھی، کے قریب ہدف کو نشانہ بنانا تھا۔انہوں نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں چرچ کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا اور اس سے ملحقہ ایک عمارت گر گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ حملوں کے متعدد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔دوسری جانب حملے سے متعلق رد عمل جاننے کے لیے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ مبینہ حملے کی جانچ پڑتال کر رہی ہے ۔واضح رہے کہ اس وقت غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہی پھیلی ہوئی ہے ، جہاں 3 ہزار سے زائد شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں، لیکن غزہ کہاں ہے ، وہاں کب، کیا ہوا، اس پر نظر ڈالنا ضروری ہے ۔غزہ ایک ساحلی پٹی ہے ، جو بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ قدیم تجارتی اور سمندری راستوں پر واقع ہے جو کہ 1917 تک سلطنت عثمانیہ کے زیر کنٹرول رہا اور گزشتہ صدی میں برطانیہ سے مصری فوجی حکمرانی میں منتقل ہوا اور اب یہ ایک زیر قبضہ علاقہ ہے جہاں 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی آباد ہیں۔
دریں اثناء سات اکتوبر سے اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ پر جاری مسلسل بمباری کے بعد ہسپتالوں کے ڈاکٹرز بھی اپنے آنسو نہ روک سکے ، خاتون ڈاکٹر نے رو رو کر عالمی رہنماؤں سے التجا کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ ‘معصوم بچوں کا کیا قصور؟ ان کی میتوں کو کہاں رکھیں؟’ٹی آر ٹی ورلڈ کی جانب سے انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ویڈیو میں فلسطینی ڈاکٹر نے دوہائی دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم کیا کریں؟ بس بہت ہوگیا، معصوم بچوں کا کیا قصور؟ ہم ان کی میتوں کو کہاں رکھیں، ہمارا خون کسی دوسرے سے مختلف نہیں، رحم کریں۔’غزہ کے ہسپتالوں میں جگہ ختم ہونے پر خاتون ڈاکٹر نے روتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں نہیں معلوم کہ معصوم بچوں کی میتوں کا کیا کریں، ہم پر رحم کریں’۔غزہ کے الشفاء ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے عالمی برادری سے التجا کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ غزہ میں معصوم جانوں کے ضیاع کو روکیں۔ڈاکٹر محمد غونیم نے ایک کمرے میں متعدد لاشوں کے درمیان کھڑے ہوکر عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق یہ نسل کشی ہے ، ہسپتال کو ایک محفوظ جگہ سمجھا جاتا ہے ، ہمارے لیے اب ہسپتال بے گھر لوگوں کے لیے ایک پناہ گاہ ہے ۔’انہوں نے بتایا کہ ‘غزہ میں اب صرف پانچ ہسپتال کام کر رہے ہیں اور وہ آنے والے چند گھنٹوں میں یہ ہسپتال بھی کام کرنا بند کردیں گے ۔’ڈاکٹر نے مزید کہا کہ ‘اس وقت کا انتظار نہ کریں جب یہ ہسپتال کام کرنا بند کردیں، ہم یہاں خود کو محفوظ محسوس نہیں کررہے اور نہ ہی یہاں کوئی محفوظ جگہ ہے ، پلیز یہ نسل کشی بند کریں، انسانی بحران کو روکیں۔’اس کے علاوہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے ایک اسپتال کے سربراہ نے جذباتی اپیل جاری کی جس میں اسرائیلی بمباری کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔جنوبی شہر خان یونس کے غزہ ہسپتال کے ڈائریکٹر یوسف العکاد نے سوال پوچھا کہ ان بچوں کو کون مار رہا ہے ؟وزات صحت کی جانب سے جاری ویڈیو میں ڈاکٹر نے عالمی رہنماؤں سے سوال پوچھا کہ مظلوموں پر ہونے والے قتل عام پر دنیا کیا کررہی ہے ؟فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق بدھ کو خان یونس کے جنوب میں ایک خاندان کے گھر پر اسرائیلی فضائی حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں 7 بچوں سمیت کم از کم 9 افراد جاں بحق ہو گئے ، حملے کے نتیجے میں کئی افراد ملبے کے نیچے دب گئے تھے ۔یاد رہے کہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر بمباری کے بعد 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے فوجی اڈوں اور بستیوں پر اچانک حملہ کیا تھا۔












