اسرائیل:اسرائیل نے ایک ہفتے کے اندر دوسری مرتبہ جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے پیر 7 اکتوبر کو اعلان کیا کہ الجلیل فارمیشن 91 کی فورسز جن میں ریزرو بریگیڈ الیگزینڈرونی 3، حزین 8، اور نحال الشمالی 228 کے جنگجو شامل ہیں، نے جنوبی لبنان میں ایک مرکوز اور مخصوص زمینی آپریشن شروع کردیا ہے۔ 91ویں الجلیل ڈویژن نے حزب اللہ کے درجنوں ارکان کو مار ڈالا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی یہ تنظیم جنوبی لبنان میں زمینی اور فضائی کارروائیوں کی قیادت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں ڈویژن کی فورسز نے سینکڑوں حملے کیے اور درجنوں حزب اللہ کے ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔جنوبی لبنان سے العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے وضاحت کی ہے کہ دراندازی کی یہ کوششیں تقریباً ایک ہفتے سے محدود بنیادوں پر جاری ہیں اور سرحد پر مزید اسرائیلی افواج کو دھکیلنے کے علاوہ کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ فوجی تجزیہ کار ریاض قھوجی کا خیال ہے کہ اسرائیل کی طرف سے شائع کردہ نئی تصاویر اور حالیہ اعلان محض میڈیا مہم اور یہ کہنے کی نفسیاتی کوششیں ہیں کہ وہ سرحد پر متحرک ہو رہا ہے اور حزب اللہ کے دفاع میں خلل ڈال رہا ہے۔ریاض قھوجی نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے بکتر بند گاڑیوں کے داخلے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ابتدائی کارروائیاں کی ہیں لیکن اب تک وہ دراندازی کی کوششوں تک ہی محدود ہے۔اسی طرح لیونٹ سینٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر کے لبنانی محقق سامی نادر نے العربیہ اور الحدث کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ حالیہ دراندازی کی کارروائیاں یا محدود زمینی دراندازی نبض کو جانچنے اور حزب اللہ کے ارکان کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی کوشش ہیں۔۔ اسی تناظر میں قومی اور سٹریٹجک سیکورٹی کے ماہر بریگیڈیئر جنرل یعرب صخر نے کہا کہ جو کچھ کیا جا رہا تھا وہ کچھ سرحدی دیہاتوں میں گھات لگانے کے لیے جاسوسی کی کوششیں تھیں۔












