ان دنوں دنیا اس بات پر مضطرب ہے کہ اسرائیل نے ایران کی طرف سے دو ماہ قبل تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے تقریباً دو سو میزائلوں سے ایران کو کس طرح نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے فوری طور پر جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے "بڑی غلطی” کی ہے اور وہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔ اسرائیلی دھمکی پر تہران نے مزید پرتشدد ردعمل کا انتباہ کیا ہے۔ اس صورت حال سے تنازع کے مزید پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ایسے حملے کی منظوری اہم ہے جس میں ایٹمی تنصیبات سے دور رہتے ہوئے اجازت دی جائے۔
اس تناظر میں امریکی انتظامیہ کے حکام نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اسرائیلی ردعمل کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے اس کے حجم کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیٹیکو اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے جواب کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ وسیع پیمانے پر بات چیت کر رہا ہے جس میں فوجی حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
اخبار نے نوٹ کیا کہ بائیڈن اور ان کے سینئر معاونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کو جواب دیتے وقت ایرانی ایٹمی تنصیبات پر براہ راست حملوں سے گریز کرے۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے آپشنز میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں پر حملہ کرنا، یا یمن یا شام میں پاسداران انقلاب کی افواج پر حملہ کرنا شامل ہے۔ بائیڈن نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے اس خطرے کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے بارے میں کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کیں۔












