امریکاوائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جاری لڑائی کے اس مرحلے پر جنگ بندی کی تجاویز کی حمایت کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ اب ہماری توجہ حماس اور اسرائیل کےدرمیان جنگ بندی سے متعلق نقطہ نظراختلافات کی خلاء کو ختم کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر سلیوان نے جنوبی اٹلی میں ’جی سیون‘ کے رہ نماؤں کے اجلاس کے موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ دنیا کو حماس کو اس تجویز کو قبول کرنے اور جمود سے بچنے کی ترغیب دینی چاہیئے۔
سلیوان نے اس سے قبل کہا تھا کہ جنگ بندی کے مشورے پر حماس کی تجویز کردہ تبدیلیاں دراصل معمولی بات نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس تجویز میں خلا کو ختم کرنے کے لیے مصر اور قطر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
اس سے قبل حماس کے ایک سینیر رہ نما نے جمعرات کو رائیٹرز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ذریعہ پیش کی جانے والی جنگ بندی کی تجویز پر جو ترمیم کی درخواست کی گئی ہے، اس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کی مکمل واپسی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے مطالبات میں جنگ بندی کے تین مسلسل اور باہم مربوط مراحل کا مطالبہ شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مطالبات میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کی مکمل واپسی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کو طویل قید کی سزاؤں کے تحت سزا یافتہ فلسطینیوں کی رہائی کا سو فی صد اختیار اسرائیل کو دینے پر اعتراض ہے۔ قیدیوں کے بارے میں حماس کو فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔
حماس کے رہ نما نے کہا کہ ان ترامیم میں غزہ کی تعمیر نو اور محاصرے کو اٹھانا شامل ہے۔اس میں بارڈر کراسنگ کھولنا، آبادی کی نقل و حرکت کی اجازت دینا اور بغیر کسی پابندی کے سامان کی نقل و حمل شامل ہے۔
دریں اثنا قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے امریکی روڈ میپ پر اسرائیل اور حماس کا رویہ جنگ بندی کی امید دلاتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ پریس بریفنگ میں قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا ہے کہ غزہ میں واضح اور مستقل جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
قطری وزیراعظم نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی امریکی تجویز حماس اور اسرائیل کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جس کے باعث ہم اس تنازع سے بھرپور ماحول میں پہلی بار تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔
وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے امریکی روڈ میپ پر اتفاق کے لیے فریقین اسرائیل اور حماس پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت تھی جو نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔












