امریکہ:امریکی صدر جو بائیڈنن نے انتباہ کیا ہے ایرانی حملوں سے اسرائیل کو کچھ نقصان پہنچا تو امریکہ کو مشرق وسطی میں اس وسیع ہوتی چلی جانے والی جنگ کا براہ راست حصہ بننا پڑے گا۔
جو بائیڈن نے یہ دھمکی اسرائیل پر پہلے ایرانی حملے کے بعد دی ہے۔ ایران کے حملے ہفتے کے روز سامنے آئے تھے۔ اس سے قبل اسرائیل نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کا ایران نے اسرائیل کو جواب دینے کی کوشش کی تھی۔صدر بائیڈن کی طرف سے یہ انتباہ وال سٹریٹ جرنل میں سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ان دنوں کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل اور یوکرین کے لئے امریکی فوجی امداد کی فوری اور تیزی سے فراہمی کے لئے امریکی قانون ساز قانون سازی کریں۔
جو بائیڈن کے مطابق یہ وقت نہیں ہے کہ ہم اپنے دوستوں کا ختم ہونے دیں اس لئے ضروری ہے کہ ایوان نمائندگان فوری طور پر سلامتی امور کے لئے یوکرین اور اسرائیل کے لئے فوجی امداد کی منظوری دیں۔ اسی طرح غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کے لئے کردار ادا کیا جائے۔
واضح رہے امریکی ریپبلکن اور ڈیموکریٹس ارکان کانگریس کئی مہینوں سے اس امدادی پیکج پر باہم جھگڑ رہے ہیں۔ بعض ڈیمو کریٹ ارکان کانگریس اسرائیل کے لئے امریکہ غیر مشروط امداد کیوں دیے جانے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگر ایران اسرائیل پر حملے میں کامیاب ہو گیا تو امریکہ کو اس جنگ میں کودنے پر مجبور جائے گا۔ ان کا کہنا تھا یوکرین اور اسرائیل اپنے دفاع اور خود مختاری کی اہلیت رکھتے ہیں مگر وہ امریکی مدد کی پر بڑا انحصار کرتے ہیں۔
دریں اثنااسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب اس ہفتے کم از کم دو بار ایران کے خلاف جوابی حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی ’اے بی سی‘ نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی کونسل نے اس حوالے سے پیش کیے گئے جوابات کے ایک سیٹ کا جائزہ لیا، جس میں ایرانی علاقے کو نشانہ بنانے کے بجائےخطے میں ایرانی ایجنٹوں کے طور پر بیان کیے گئے افراد پر حملہ کرنا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب ایک ملتی جلتی پیش رفت میں ایک سینئر امریکی اہلکار نے اس بات کو مسترد کیا کہ ایران ’پاس اوور‘ سے پہلے ایران کو اپنا متوقع ردعمل شروع کر دے گا، لیکن انہوں نے اے بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام تبدیل ہو سکتا ہے۔عین ممکن ہے کہ اسرائیل ایران پر یہودیوں کی عیدالفسح سے قبل حملہ کر دے جو 30 اپریل تک ہو سکتا ہے۔ نیٹ ورک نے امریکی اہلکار سے منسوب ایک بیان میں کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور ملک میں دیگر رہنما اب بھی ہائی الرٹ پر ہیں۔












