لبنان:حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی آخری تقریر کے بعد گذشتہ ماہ لبنان اسرائیل سرحد پر جھڑپوں کی شدت میں معمولی کمی دیکھی گئی۔لیکن حالیہ دنوں میں، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان روزانہ کی جھڑپوں میں ایک بار پھر شدت آئی ہے، جس سے علاقائی کشیدگی کے بارے میں نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
ایسے میں امریکی نیوز ویب گاہ ایکسیوس نے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی خبر دی ہے۔ جس میں امریکہ اور اسرائیل نے لبنان کے ساتھ تناؤ کم کرنے پر بات کی۔ایکسیوس کے مطابق، چار اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے سینئر عہدیداروں نے منگل کے روز لبنان کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ کو روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک ورچوئل میٹنگ کی۔ اور اس میں لبنان کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے اور ایک جامع حملے کو روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ورچوئل میٹنگ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ امریکی ٹیم کی قیادت وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کر رہے تھے۔ صدر بائیڈن کے مشیر اموس ہوچسٹین اور بریٹ میک گرک نے بھی شرکت کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹیم کی قیادت وزیر برائے اسٹریٹجک امور اور نیتن یاہو کے معتمد رون ڈرمر کر رہے تھے۔
ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق فریقین نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کو ختم کرنے کے لیے ایک طویل المدتی سفارتی حل تک کیسے پہنچنا ہے ایک ایسے منظر نامے میں جہاں غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔












