غزہ:غزہ کے صحت کے حکام نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شمالی علاقے کے ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر کو حراست میں لیا جس کے بارے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی چھاپے کے بعد یہ ہسپتال درست طور پر خدمات انجام نہیں دینے کے قابل نہیں تھا۔حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت نے ایک بیان میں کہا، "قابض افواج کمال عدوان ہسپتال سے طبی عملے کے درجنوں افراد کو تفتیش کے لیے حراستی مرکز میں لے گئی ہیں جن میں ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ بھی شامل ہیں۔”
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بھی ابو صفیہ کی حراست کی تصدیق کی اور بتایا ہے کہ اس کے ڈائریکٹر احمد حسن الکحلوت بھی گرفتار شدگان میں شامل ہیں۔سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے اے ایف پی کو بتایا، "قابض افواج نے شمال میں طبی، انسانی اور شہری دفاع کے نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جس سے وہ بیکار ہو کر رہ گئے ہیں۔”جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے کمال عدوان ہسپتال کے علاقے میں کارروائی کی تھی اور الزام لگایا کہ یہ طبی سہولت "دہشت گرد تنظیموں کا اہم مرکز” تھی۔حماس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کے مزاحمت کار ہسپتال میں موجود تھے اور الزام لگایا کہ اسرائیلی افواج نے جمعہ کے روز اس سہولت پر یلغار کر دی۔












