اسرائیلاسرائیلی فوج نے منگل کے روز ایک وڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں غزہ کی پٹی میں واقع اُس سرنگ کو دکھایا گیا ہے جس کے اندر چند روز پہلے چھ قیدیوں کی لاشیں ملی تھیں۔
وڈیو میں ایک زیر زمین تنگ اور گہری راہ داری نظر آ رہی جس میں بیت الخلا اور ہوا کے گزر کا کوئی انتظام نہیں۔ وڈیو کلپ میں تاریک سرنگ کے فرش پر خون، اسلحے کی گولیاں اور شطرنج کا کھیل پڑا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ سرنگ ایک فولادی دروازے کے ذریعے بند ہے۔
گذشتہ ماہ یہاں سے چھ قیدیوں کی لاشیں ملنے پر اسرائیل میں عوام کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اب اس نئے وڈیو کلپ کے جاری ہونے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ بقیہ یرغمال افراد کی واپسی کی خاطر حماس کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے تک پہنچیںاسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہیگاری کے مطابق یہ وڈیو کلپ قیدیوں کے گھرانوں کو دکھایا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ان لوگوں کے لیے یہ دیکھنا بہت مشکل تھا کہ ان کے پیاروں نے کس طرح ان حالات میں وقت گزارا”۔ہیگاری کے مطابق یہ سرنگ زمین کے نیچے 20 میٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔ اس کی اونچائی 170 سینٹی میٹر سے کچھ کم اور چوڑائی 80 سینٹی میٹر کے قریب ہے۔ سرنگ میں ایک دہانہ موجود ہے جس کو مسلح عناصر باہر نکلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ دہانہ ایک گھر میں بچوں کے کمرے کے نیچے کھلتا ہے۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی طرف سے جاری کی گئی یہ نامعلوم تصویر غزہ کی سرنگ کو دکھاتی ہے جہاں یہ کہتا ہے کہ حال ہی میں حماس کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں چھ اسرائیلی یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ (اے پی کے ذریعے اسرائیلی فوج)اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی طرف سے جاری کی گئی یہ












