غزہ (ایجنسی)شمالی غزہ کے آخری فعال ہسپتالوں میں سے ایک کمال عدوان ہسپتال کے عملے کے پانچ ارکان جمعرات کو اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے، یہ بات ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتائی جبکہ علاقے میں اسرائیلی کارروائی کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔ بیت لاہیا کے کمال عدوان ہسپتال کے سربراہ حسام ابو صفیہ نے کہا، "اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہسپتال کے عملے میں سے پانچ افراد شہید ہو گئے۔” اسرائیلی فوج نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔فلسطینی سرزمین کے دوسرے سرے پر خان یونس کے النصر ہسپتال کے بچوں کے بڑے ڈاکٹر نے بتایا کہ اس ہفتے موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی تین بچے "درجہ حرارت میں شدید کمی” سے جاں بحق ہو گئے۔ڈاکٹر احمد الفراء نے کہا کہ تازہ ترین کیس تین ہفتے کی بچی کا تھا جسے "درجہ حرارت میں شدید کمی کے ساتھ ایمرجنسی روم میں لایا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔”انہوں نے کہا کہ منگل کو ایک تین دن کا بچہ اور "ایک ماہ سے کم عمر” ایک اور بچے کی موت واقع ہو گئی۔دریں اثناء وسطی غزہ میں ایک مزاحمت کار گروپ سے وابستہ ایک فلسطینی ٹی وی چینل نے کہا کہ جمعرات کو غزہ میں ان کی گاڑی پر اسرائیلی حملے میں اس کے پانچ صحافی ہلاک ہو گئے جبکہ اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے ایک "دہشت گرد سیل” کو نشانہ بنایا تھا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک میزائل اس وقت لگا جب وین نصیرات میں العودہ ہسپتال کے باہر کھڑی تھی۔تین ہفتے کی بچی صلہ الفصیح المواصی کیمپ میں ایک خیمے میں رہ رہی تھی جسے اسرائیلی فوج نے انسانی بنیادوں پر محفوظ زون قرار دیا ہے جہاں بڑی تعداد میں بے گھر فلسطینی آباد ہیں۔












