اسرائیل کی سپریم کورٹ نے غزہ تک آزاد و خودمختار صحافتی رسائی کی درخواست پر فیصلہ دوبارہ ملتوی کر دیا ہے جس کے بعد ایک بین الاقوامی میڈیا ایسوسی ایشن نے بدھ کو میڈیا کو ارسال کردہ ایک بیان میں مایوسی کا اظہار کیا۔سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حکومت نے محصور علاقے میں غیر ملکی صحافیوں کا آزادانہ داخلہ روک دیا ہے۔اس کے بجائے اسرائیل نے اپنی فوج کے ہمراہ صرف ایک محدود تعداد میں صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔فارن پریس ایسوسی ایشن (ایف پی اے) نے 2024 میں اپنی درخواست دائر کی تھی جس کے بعد عدالت نے حکومت کو اپنا جواب جمع کروانے کے لیے کئی مہلتیں دیں۔ایف پی اے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں سینکڑوں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ہے اور اے ایف پی کا ایک صحافی اس کے بورڈ میں شامل ہے۔پیر کو تازہ ترین سماعت کے بعد عدالت نے دوبارہ ایف پی اے کی درخواست پر فیصلہ ملتوی کر دیا اور کہا کہ وہ 31 مارچ تک اپ ڈیٹ دے گی۔
ایف پی اے نے اپنے بیان میں کہا، فارن پریس ایسوسی ایشن کو شدید مایوسی ہوئی ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے غزہ تک آزادانہ صحافتی رسائی کے لیے ہماری درخواست پر فیصلہ ایک بار پھر ملتوی کر دیا ہے۔نیز کہا، "سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بظاہر عدالت سکیورٹی سے متعلق ریاست کے دلائل سے متأثر ہو گئی ہے جو بند دروازوں کے پیچھے اور ایف پی اے کے وکلاء کی عدم موجودگی میں پیش کیے گئے تھے۔ اس خفیہ عمل سے ہمارے لیے ان دلائل کو رد کرنے کا کوئی موقع میسر نہیں آتا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے غزہ کی مسلسل من مانی اور صریح بندش کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔”ایف پی اے نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق ایسے کوئی دلائل نہیں تھے جو اس کے مطابق غزہ تک میڈیا کی رسائی پر اسرائیل کی مکمل پابندی” کا جواز فراہم کریں۔تنظیم نے کہا، یہ پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب انسانی امداد کے کارکنان اور دیگر اہلکاروں کو غزہ میں جانے کی اجازت ہے۔سابقہ گذارشات میں حکومت نے استدلال کیا کہ صحافیوں کو غزہ میں جانے کی اجازت دینے سے فوج کے لیے سلامتی کے خطرات پیدا ہوئے بالخصوص جبکہ فوجی وہاں پر آخری قیدی کی باقیات بدستور تلاش کر رہے تھے۔تاہم آخری اسرائیلی اسیر ران گویلی کی باقیات اب اسرائیل کو واپس کر دی گئی ہیں جس کے بارے میں ایف پی اے نے کہا ہے کہ اس سے غزہ تک میڈیا کی آزاد رسائی کا راستہ کھلتا ہے۔تنظیم نے کہا، "ایف پی اے عدالت سے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی اپیل کرتا ہے اور غزہ تک آزادانہ و خودمختار رسائی کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔”












