امریکی ویب سائٹ ’ایکسیس‘ نے اپنے اسرائیلی تجزیہ کار بارک راویڈ کے ذریعے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ جمعہ کی شام بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے میں حزب اللہ کی رضوان یونٹ کے قائم مقام سربراہ ابراہیم عقیل ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں اسرائیل نے حزب اللہ کی رضوان فورس کی تمام سینئر قیادت کو ختم کر دیا۔ یونٹ کےٹاپ کمانڈروں کی تعداد 20 تھی جنہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ہفتے کے روز حزب اللہ نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے 16 ارکان کے قتل پر سوگ کا اعلان کیا۔ ان میں کم از کم دو رہ نما بھی شامل تھے۔حزب اللہ کی ایلیٹ فورس رضوان فورس کے کمانڈر ابراہیم عقیل کے سوگ کے بعد تنظیم نے یکے بعد دیگرے بیانات میں 15 ارکان کے سوگ کا اعلان کیا۔ ان میں لیڈر احمد محمود وہبی بھی شامل ہیں، جنہوں نے "مرکزی تربیتی یونٹ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی‘‘۔
حزب اللہ کے ایک اور قریبی ذرائع نے جمعہ کو اطلاع دی کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ابراہیم عقیل فیلڈ "رہنماؤں” کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھے۔کشیدگی میں اضافے پر امریکی تشویشایک ہفتے سے بھی کم وقت میں چھٹے فون کال میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یواو گیلنٹ سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے جنگ کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کا اشارہ دینے کے بعد ایک بیان میں آسٹن نے بحران کے سفارتی حل تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا۔جب کہ اسرائیلی فوج نے آنے والے دنوں میں شمالی محاذ پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بھی غور شروع کردیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ایک مشیر نے کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی میں پچھلی سرخ لکیریں اب موجود نہیں ہیں۔ اسرائیل نے اس کی مخالفت کی ہے۔نیتن یاہو کے دفتر میں ایک مشیر نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل اپنے حملے ترک نہیں کرتا تو وہ حزب اللہ کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے کے لیے شمال میں اپنے مقاصد کو بڑھا سکتا ہے۔












