اسرائیل:غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے 15 ماہ بعد اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے لیے اکٹھا ہو گئی۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے آج جمعے کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اسیروں کی آزادی معاہدے کے مطابق اتوار کے روز شروع ہو گی۔ مزید یہ کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی اعلان شدہ پروگرام کے مطابق عمل میں آئے گی۔
اس سے قبل بعض ذمے داران اور تجزیہ کاروں نے گمان ظاہر کیا تھا کہ معاہدے کا نفاذ اتوار سے مؤخر ہو کر پیر کے روز شروع ہو سکتا ہے۔ سیکورٹی کابینہ سے منظوری کے بعد حکومت اپنے تمام ارکان کے سامنے اس معاہدے کو توثیق کے لیے پیش کرے گی۔
قطر ، مصر اور امریکا کی وساطت سے غزہ معاہدہ بدھ کے روز طے پائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ اس کے دوران میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلا ہو گا۔ اسی طرح 33 اسرائیلیوں کو آزاد کیا جائے گا جن میں خواتین، بچے اور پچاس سال سے زیادہ کے افراد شامل ہوں گے۔
دوسرے مرحلے میں بقیہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، مستقل فائر بندی، غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور اس کے مقابل ایک ہزار سے زیادہ فلسیطنی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔
تیسرے مرحلے میں تمام بقیہ میتیں واپس کی جائیں گی اور مصر، قطر اور امریکا کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو شروع ہو گی۔












