غزہ، (یواین آئی) مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے دیر شرف میں فلسطینی شہریوں پر نقاب پوش اسرائیلیوں کے تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں لاٹھیوں سے مسلح حملہ آوروں نے ایک نرسری میں کام کرنے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں دیر شرف میں واقع ایک زرعی نرسری پر درجنوں نقاب پوش اسرائیلیوں نے دھاوا بول دیا اور فلسطینی شہریوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کم از کم ایک فلسطینی شدید زخمی ہوا، جب کہ واقعے کی ویڈیو بعد ازاں امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو موصول ہوئی۔اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو نرسری میں نصب سیکیورٹی کیمروں سے حاصل کی گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور، جو مبینہ طور پر یہودی آبادکار تھے، لاٹھیوں کے ساتھ فلسطینیوں پر ٹوٹ پڑے۔ ویڈیو مناظر میں فلسطینیوں کو لاتوں اور لاٹھیوں سے مارا جاتا دکھایا گیا ہے، جب کہ ایک شخص زمین پر گرا ہوا تشدد برداشت کرتا نظر آتا ہے۔واقعے کے دو عینی شاہدوں نے بتایا کہ جن فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا وہ اپنی ہی نرسری میں موجود تھے اور کسی قسم کی مزاحمت نہیں کر رہے تھے۔ 67 سالہ باسم صالح یاسین نے بتایا کہ وہ دیر شرف میں واقع اپنی نرسری سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک ان پر حملہ کر دیا گیا۔ تاہم انہوں نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنی مزید شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا۔عینی شاہد کے مطابق اس حملے میں ایک فلسطینی کے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ایک اور فلسطینی کے چہرے، سینے اور کمر پر شدید چوٹیں آئیں۔ اسی دوران حملہ آوروں نے فلسطینیوں کی چار گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی اور بعد ازاں انہیں آگ بھی لگا دی۔یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے تشدد کی تازہ مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ حملہ فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران کیا گیا۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ملوث افراد چند انتہا پسند تھے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں تاکہ قانون اپنا راستہ لے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ محض چند انتہا پسندوں تک محدود نہیں، بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایسے پرتشدد واقعات تقریباً روزانہ پیش آ رہے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔اسرائیلی فوج نے واقعے پر فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تشدد کا نشانہ بننے والی نرسری کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق جرمن شہریت رکھنے والے ایک فلسطینی خاندان سے ہے، اور رواں سال یہ تیسرا موقع ہے کہ اس نرسری پر یہودی آبادکاروں نے حملہ کیا۔ اس سے قبل ستمبر میں ہونے والے ایک حملے میں فلسطینیوں کو تقریباً چھ لاکھ ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔تازہ واقعے کے دوران نرسری میں کام کرنے والے دیگر کارکن حملہ آوروں کو آتے دیکھ کر فرار ہو گئے، تاہم بہرے پن کا شکار یاسین اپنے ساتھیوں کی آہٹ نہ سن سکنے کے باعث وہیں رہ گئے۔ بعد میں سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نقاب پوش افراد ان کے پیچھے دوڑتے ہیں، یاسین زمین پر گرتے ہیں اور ایک حملہ آور انہیں لاتیں مارتا ہے، جبکہ دوسرا لاٹھی سے ان کے سر پر وار کرتا ہے۔












