
کانپور،19؍اکتوبر،پریس ریلیز،ہماراسماج: صہیونی غاصب مملکت اسرائیل کی وحشیانہ دہشت گردی انسانیت کے اجتماعی وجود پر قاتلانہ حملہ ہے۔ فلسطین کے خطے غزہ پر پچھلے دو ہفتے میں تین ہزار سے زائد نہتّے شہریوں، بچوں، عورتوں اور مردوں کا قتلِ عام، اسپتالوں پر حملے اور پوری پوری رہائشی کالونیوں کو زمین بوس کر کے اسرائیلی حکومت نے صہیونیت کا کریہہ چہرہ عیاں کر دیا ہے اور اسرائیل کے پشت پناہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ نے اس فرعونیت کی حمایت کر کے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی حقوق کے کھوکھلے نعرے ان ممالک کے لیے ایک سیاسی حربے سے زیادہ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ غزہ کی شدید ناکہ بندی اور اسپتالوں پر حملے کے باعث وہاں صحت کا نظام معطل ہو چکا ہے اور اسرائیل نے غزہ پر روئے زمین کا بدترین بحران مسلط کر دیا ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اترپردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اپنے اخباری بیان میں کیا۔مولانا نے کہا کہ اول تو برطانوی استعمار اور اقوامِ متحدہ نے فلسطینیوں کی زمین پر ایک صہیونی مملکت بسانے کا غاصبانہ فیصلہ کِیا جو خود ایک ظلم تھا، اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ اسرائیل نے ان سرحدوں کو بھی پامال کر دیا جو خود اقوام متحدہ نے فلسطین و اسرائیل کے بیچ بنائی تھیں، اور جس سرزمین کو اقوامِ متحدہ نے فلسطینی مملکت قرار دیا تھا اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ فلسطینیوں نے اپنی آزادی کی مسلح جدوجہد بھی کی اور مذاکرات کے ذریعے پرامن حل نکالنے کی بھی کوشش کی، مگر پرامن مذاکرات کے فلسطینی ترجمان یاسر عرفات کو شہید کر کے اسرائیل نے پرامن حل کے راستے بند کر دیے۔ مولانا نے کہا کہ غزہ جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ گھنی آبادی والے خِطوں میں سے ایک ہے، اسرائیل نے 2007 سے اس کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جب کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ناکہ بندی ایک جنگی عمل ہے۔ الغرض اسرائیل نے غزہ اور فلسطین پر ہر نوعیت کی جنگ مسلط کر رکھی ہے، اور اس کے بعد جب حریت پسند فلسطینی آزادی کے حق کے لیے مسلح مزاحمت کرتے ہیں تو اسرائیل پوری قوت کے ساتھ خالص شہری آبادیوں کو اندوہناک فضائی حملوں سے برباد کر دیتا ہے، اور امنِ عالم کے خودساختہ ٹھیکیدار اسے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔ مولانا تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیسے کسی کے گھر میں چور گھس آئے، وہ اپنے دفاع میں لاٹھی اٹھائے تو چور گولی چلا دے، پھر چور کے گولی چلانے کے عمل کو دفاع کا حق قرار دیا جائے، فلسطین کے خلاف مغربی قوتیں اسی بے شرم دھاندلی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے بتلایا کہ آزاد جمہوری ہندوستان اپنی پوری تاریخ میں فلسطین کا حامی و معاون رہا ہے۔ نومبر 1947 میں ہندوستان ان چند ممالک میں سے تھا جنہوں نے اسرائیل کے قیام کے خلاف اقوامِ متحدہ میں ووٹ کیا تھا۔ 1974 میں ہندوستان پہلا غیرعرب ملک بنا جس نے یاسر عرفات کی تنظیم آزادیِ فلسطین کا سفارتی درجہ تسلیم کِیا، یہ وہ دور تھا جب یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی قوم مسلح مزاحمت بھی کر رہی تھی۔ 1988 میں فلسطینیوں کے اعلانِ آزادی کے بعد ہندوستان ان اولین ممالک میں سے تھا جنہوں نے آزاد خودمختار فلسطینی مملکت کو تسلیم کِیا۔ 2012 میں ہندوستان نے اقوامِ متحدہ میں مملکتِ فلسطین کی رکنیت کی حمایت کی۔جمعیۃ علماء کے ریاستی نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان میں فلسطین کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں جمعیت علمائے ہند کا اہم کردار رہا ہے۔ 1939 کے مؤتمر فلسطین مسلمانانِ ہند کی نمائندگی جمعیت علماء نے کی تھی، 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جمعیت علماء نے عرب حمایت تحریک چلائی تھی جس پر عرب سفیروں نے جمعیت علماء کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اسی زمانے میں جمعیت نے حکومتِ ہند سے تنظیمِ آزادیِ فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کِیا تھا، فلسطین کی حمایت میں اس وقت کے وزیر خارجہ اور دیگر وزراء کی شرکت کے ساتھ اجلاس عام کِیا تھا جس کے چند ماہ بعد حکومتِ ہند نے تنظیم آزادیِ فلسطین کی نمائندگی تسلیم کی تھی۔مولانا افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ حکومت فلسطین کے مسئلے پر حقوقِ انسانی کے تقاضوں، ملک کی تاریخی پوزیشن اور خود ملک کے مفاد کو نظرانداز کر رہی ہے۔ اسرائیل کے قتلِ عام نے پوری دنیا کے حقوقِ انسانی کے اداروں، انصاف پسند شہریوں اور حکومتوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے، مگر حکومتِ ہند نے اس کی رسمی مذمت بھی ضروری نہیں سمجھی، بلکہ مزاحمت کرنے والے فلسطینیوں کو ہی مجرم قرار دے دیا۔ مولانا نے زور دے کر کہا کہ آج بھی جمہوریۂ ہند کا اصولی موقف یہی ہے کہ آزاد خودمختار فلسطینی مملکت کا قیام ہی مسئلے کا واحد حل ہے، لیکن فلسطینی مملکت کے قیام کے سب سے بڑے مخالف نتن یاہو کے ساتھ موجودہ حکومت کی قربتیں اس 75 سالہ خارجہ پالیسی کو پامال کرتی ہیں۔ ہندوستان مشرق و مغرب کی عالمی کشمکش میں تاریخی طور پر بھی اور حال میں بھی مشرقی بلاک کا نمائندہ رہا ہے، مگر موجودہ حکومتِ ہند نے مغربی بلاک کی ناجائز تخلیق اسرائیل کی حمایت کر کے اس پوزیشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔مولانا عبداللہ نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کرنے پر یوپی میں دو علمائے کرام کی اور ممبئی میں کئی مسلم و غیرمسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قوت اور جبر سے انصاف پسندی کے جذبے کو نہیں دبایا جا سکتا، یہی وجہ ہے جن ممالک کی حکومتوں نے اسرائیل بنایا ہے خود وہاں کے انصاف پسند عوام اسرائیلی ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہندوستان کا ہر انصاف پسند شخص خصوصاً ہندوستانی مسلمان فلسطین کی تحریکِ آزادی کو اپنی آزادی کی تحریک سمجھتا ہے، اور قبلۂ اول یعنی مسجدِ اقصیٰ کی حرمت اور آزادی مسلمانوں کے ایمان کا جزء ہے، حکومت کے بے سمت فیصلے اور بے جا گرفتاریاں اس سچائی کو تبدیل نہیں کر سکتے۔مولانا نے بتلایا کہ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مسلمانانِ ہند سے اپیل کی ہے کہ 19 اکتوبر جمعہ کے دن کو فلسطینیوں کے حق میں یومِ دعا کے طور پر خاص کریں، اور حالات کی بہتری کے لیے نفلی روزہ رکھیں۔












