رام پور، قاضی شہر بلاس پور مولانا محمد ناصر خان وجیہی نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھرمیںرحمتوں اور برکتوں کے ایّام چل رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں عطا ہوئے ہیں۔اگرہم ان دنوں کی قدرنہ کریںگے توہم گناہ گارہیں۔ان کی قدرکرکے جنت کے مستحق بنیں۔انہوں نے کہا کہ نیت کا مطلب ارادہ کے ہیں۔ اسلام میں نیت کی بہت اہمیت ہے کیوںکہ نیت کے بغیر نہ نماز قبول ہوتی ہے اور نہ روزہ مقبول ہوتاہے۔ رات کو سونے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ کل روزہ رکھوں گا۔ روزہ رکھنے سے پہلے یہ ایک بہت اہم قاعدہ ہے اگر بولنے سے نیت نہ کی جائے تو دل میں نیت کی جائے تو روزہ بھی ہو جائے گا۔کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دن بھر بھوکا پیاسا رہے اور غیبت سے باز نہ آئے توایسے میںاس کے بھوکا پیاسا رہنے سے کوئی فائدہ نہیںہے۔روزے میں انسان کو ہر اس چیز سے پرہیز کرنا چاہیے جس سے کسی دوسرے شخص کا دل مجروح نہ ہو یا اس کے کسی عمل سے دوسروں کو تکلیف پہنچے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ایک حدیث پاک کے مطابق حضرت ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابن مالک نے فرمایا کہ تم روزے رکھو۔ افطار کے وقت دعاکرو۔اس وقت دعابھی قبول ہوتی ہے اوراللہ کواس وقت دعاکرنے کی ادابہت پسندآتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رمضان کا روزہ جہنم کے دروازے بند کر دیتا ہے اور جنت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے مقدس مہینے میں اللہ کی طرف سے قرآن کی آیات ملی تھیں۔رمضان المبارک کے روزے ہر مسلمان پر فرض ہیںاگر کوئی بغیر کسی مجبوری کے روزہ چھوڑ دے تو وہ گناہ گار ہے اور اس پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔












