اب مشکل میں کانگریس نہیں بی جے پی ہے
2024انتخاب سے قبل اپوزیشن اتحاد کے قیام میں سب سے بڑی دشواری بھی کانگریس ہی ہے ۔کیونکہ کی کم ہوتی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر ہی زیادہ تر علاقائی پارٹیاں کھڑی ہیں۔اور کانگریس کی عوامی مقبولیت کے بڑھتے ہی علاقائی پارٹیوں کو نقصان ہوناطے ہے ۔ممتا بنرجی ہوں یا نتیش کمار ،لالو یادو ہوں یا اکھلیش یادو ۔اروند کجریوال ہوں یا شرد پوار یا اودھو ٹھاکرے ،یا پھر ساؤتھ کی زیادہ تر پارٹیاں ان سب کا نعرہ سیکولرزم ہے ،یہ سب بی جے پی کے آئین مخالف تاناشاہی رویہ سے بد دل ہیں ،سب خوفزدہ بھی ہیں کہ نہ جانے کب ای ڈی اور سی بی آئی ان کی مزاج پرسی کو آ جائے ،لیکن انہیں یہ بھی اندازہ ہے کہ بی جے پی کے بعد کانگریس ہی وہ واحد پارٹی ہے جو قومی سطح پر بی جے پی سے مقابلہ کر سکتی ہے ۔ایسے میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ کانگریس کے ساتھ مل کر ایک ایسا محاذ بنایا جائے جو بی جے پی کے خلاف عوامی ووٹ کو بکھرنے نہ دے ۔کیونکہ 2019کے انتخاب میں بھی بی جے پی کو پینتیس فیصد کے آس پاس ووٹ ملے ہیں جبکہ کانگریس کے ساتھ اگر علاقائی پارٹیوں کے ووٹ کو ملا دیا جائے تو بی جے پی کو 100سیٹ تک ہی محدود کیا جا سکتا ہے ۔لیکن بی جے پی کو روکنے کی قیمت بھی علاقائی پارٹیوں کو ہی ادا کرنی ہوگی ۔اور یہی قیمت حزب اختلاف کی پارٹیاں ادا کرنے میں ہچکچا رہی ہیں،اور نتیش کمار تمام حزب اختلاف کے دل سے کانگریس کا ڈر نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔اس سلسلے میں کانگریس نے ان پر بھروسہ کیا ہے یہ ایک بڑی بات ہے ۔کیونکہ کانگریس بھی یہ جانتی ہے کہ اس کی پارٹی میں ایسا کوئی لیڈر نہیں جو دیگر حزب اختلاف کی پارٹیوں کو بھی کانگریس کے ساتھ ایک محاذ میں لا سکے ۔ابھی تک کانگریس اور’آپ‘ کے مابین ہی مفاہمت کرانے میں نتیش کمار ناکام ہوئے ہیں ورنہ باقی سارا حزب اختلاف فی الحال اس بات پر متفق ہے کہ 2024 کا عام انتخاب کانگریس کے ساتھ محاذ بنا کر لڑنے میں ہی ان کا فائدہ ہے ۔لیکن کانگریس بھی خاموش نہیں ہے ۔اس نے بھی ملکارجن کھڑگے کو اپنا صدر بنا کر پورے ملک کے دلتوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر دلتوں نے سیاسی عقلمندی کا ثبوت دیا اور بی جے پی کے سائے سے نکل کر کانگریس کا ساتھ دیا تو ملکارجن کھڑگے پہلے دلت وزیر اعظم بھی ہو سکتے ہیں ۔کانگریس کو اندازہ ہے کہ اگر پچھڑے ،دلت اور او بی سی نے بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس کا رخ کر لیا تو پھر موجودہ منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے ۔اور اس سلسلے میں نتیش کمار اور لالو یادو کا فارمولہ’’ذات کی بنیاد پر مردم شماری‘‘بھی کانگریس کے ایجنڈے میں شامل ہے ۔اور یہ صرف زبانی وعدہ نہیں ہے ۔کانگریس اور اپوزیشن نے اس فارمولے کو اپنایا اور اس طبقے کے ووٹرس نے پانچ کیلو اناج وغیرہ کا لالچ چھوڑ کر بی جے پی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تو ملک کے مسلمان لا محالہ محاذ کے ساتھ آ جائینگے۔ کانگریس نے مسلمانوں کو ایک بار پھر اپنی جانب لانے کے لئے کام بھی شروع کر دیا ہے ۔لوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس نے بہار کے مسلم اکثریتی سیمانچل علاقے میں اسد الدین اویسی کے بڑھتے ہوئے سیاسی حلقہ کو بے اثر کرنے کے لیے مسلم کارڈ کھیل دیا ہے ۔
ایم ایل اے شکیل احمد خان کو اجیت شرما کی جگہ بہار کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ بہار میں 23 سال بعد کانگریس کے ایک مسلم لیڈر کو سی ایل پی لیڈر بنائے جانے کے بعد یہ بات صاف ہو جاتی ہے ۔کرناٹک انتخابات میں مسلم ووٹ بینک کی واپسی کے بعد کانگریس کے حوصلے بلند ہیں اور اب وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں اپنے کھوئے ہوئے مسلم ووٹ بینک کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش میں ہے۔ اسی سلسلے میں کانگریس نے اجیت شرما کو لیجسلیچر پارٹی کی سیٹ سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ کٹیار کی کدوا سیٹ سے ایم ایل اے شکیل احمد خان کو یہ ذمہ داری دی ہے۔بہار کانگریس صدر کے عہدے کی کمان اکھلیش پرساد سنگھ کے ہاتھ میں ہے، جو بھومیہار برادری سے آتے ہیں۔ ایم ایل اے اجیت شرما بھی بھومیہار ذات سے آتے ہیں۔ اسی لیے کانگریس نے شکیل احمد خان کو سی ایل پی لیڈر بنا کر بہار کا سیاسی توازن درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے فرقان انصاری کو آخری بار 2000 میں سی ایل پی لیڈر مقرر کیا گیا تھا اور 23 سال بعد شکیل احمد کو منتخب کیا گیا ہے۔ بہار کے سیمانچل علاقے میں کانگریس کی مسلم سیاست کے لیے اسے بہت اہم سمجھا جارہا ہے ۔
شکیل احمد خان کا تعلق سیمانچل علاقے سے ہے جو کبھی کانگریس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ کٹیہار، پورنیہ، ارریہ اور کشن گنج لوک سبھا سیٹیں سیمانچل علاقے میں ہی آتی ہیں۔ بہار میں کانگریس کے پاس صرف کشن گنج لوک سبھا سیٹ ہے، لیکن اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دھیرے دھیرے سیمانچل میں جگہ بنا رہی ہے۔ اویسی کی پارٹی 2020 کے بہار انتخابات میں پانچ ایم ایل اے جیتنے میں کامیاب بھی رہی تھی ۔ یہ پانچوں ایم ایل اے سیمانچل سے جیتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے چار ایم ایل اے آر جے ڈی میں شامل ہو گئے ہیں لیکن اس سے اویسی کا اثر کم نہیں ہوا ہے۔بہار کی سیاست میں اسدالدین اویسی کے سیاسی اثر کو بے اثر کرنے کے لیے کانگریس سیمانچل علاقے میں ایک مضبوط چہرے کی تلاش میں تھی۔ کشن گنج میں کانگریس کی اچھی گرفت ہے اور شکیل احمد خان کے ذریعے پارٹی سیمانچل کے پورے علاقے میں اپنی جڑیں دوبارہ جمانا چاہتی ہے۔ سیمانچل کی سیاست میں بہت کچھ داؤ پر لگا کر کانگریس نے شکیل احمد خان جیسے لیڈر کو پروجیکٹ کیا ہے تاکہ مسلمانوں کا اعتماد جیت سکے اور بی جے پی کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر کو توڑا جا سکے۔ کل ملا کر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کانگریس اب بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہی ہے ۔لیکن اس کا پہلا نتیجہ تین ریاستوں کے اسمبلی انتخاب کے نتائج کے بعد سامنے آئے گا اور پھر 2024میں تو یہ طےہو ہی جائے گا کہ اس ملک پر ایک بار پھر گوڈسے کے ہمنوا ہی حکومت کریںگے یا گاندھی کے حق میں عوام فیصلہ دے گی ۔
(شعیب رضا فاطمی )












