دیوبند، رمضان المبارک کا مہینہ جاری ہے مساجد اور گھروں میں تراویح کا سلسلہ جاری ہے لا تعداد حفاظ قرآن کریم کو تراویح میں سنا رہے ہیں۔ان ہی حفاظ میں چند ایسے حفاظ بھی ہیں جو چند دنوں میں قرآن پاک کی تکمیل کرلیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اتنی شدت اور تیزی کے ساتھ قرآن شریف کو پڑھنے والے ایسے ہیں جن پر خود قرآن کریم لعنت کرتا ہے ۔قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا اور تراویح میں قرآن کریم سنانے نیز خشوع وخضو ع کے ساتھ پڑھنے سے ہی قرآن کریم کا حق ادا ہوتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ قاری واصف عثمانی نے کیا ۔حفاظ کرام کے نام انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم پر قرآن کا حق کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ادنیٰ درجہ میں قرآن کریم کا حق یہ ہے کہ اس کی ایک ایک آیات والفاظ کو ترتیل کے ساتھ اور ٹہر ٹہر کر اطمینان اور آرام کے ساتھ پڑھا جائے اور پڑھتے وقت تجوید وقواعد کا پورا پورا خیال رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تراویح میں بھی کلام پاک کو پڑھتے وقت حفاظ کو مذکورہ آداب ذہن میں رکھنے چاہئیںکیونکہ قرآن کریم کو بے ترتیب اور تلفظ کی صحیح ادائیگی کے ساتھ نہ پڑھنے پر اس کے ترجمہ بھی بدل جاتا ہے اور اس طرح سے قرآن شریف پڑھنے والا ثواب کے بجائے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ،ایسے ہی لوگوں پر قرآن لعنت بھیجتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن کی لعنت در اصل اللہ تبارک وتعالیٰ کی لعنت ہے کیونکہ قرآن کریم براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔قاری واصف عثمانی نے ایسے حفاظ سے سوالیہ انداز میں کہا کہ جو حفاظ ایک شب میں کم از کم 5سپارے پڑھتے ہوں اور وہ بھی تراویح کی 20رکعات میں تو خود ہی اندازہ لگالینا چاہئے کہ اگر تجوید وقواعد کے ساتھ یہ 5سپارے پڑھے جائیں تو اس کے لئے کتنا وقت درکار ہوگا لیکن حفاظ قرآن کریم کے آداب اور اس کے پڑھنے کے قواعد کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی سورہ مزمل میں قرآن شریف کے پڑھنے کو واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے اور اس کا صحیح طریقہ بتایا گیا ہے جیسے کہ سورہ مزمل کی آیت ”وَرَتِّل القُر آنَ تَر تِیلا“یعنی اے اللہ کے رسول قرآن پاک کو ٹہر ٹہر کر پڑھا کیجئے۔انہوں نے کہا کہ سوال یہی ہے کہ اللہ کے رسول کو کلام پاک صاف صاف اور ٹہر ٹہر کر پڑھنے کا حکم کیوں دیا جارہا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ترتیل کے معنیٰ ٹہر ٹہر کر پڑھنا ،صاف صاف پڑھنا یعنی ایسا پڑھنا کہ جو پڑھنے والے اور سننے والے کی سمجھ میں آجائے ۔مذکورہ حکم سے واضح ہے کہ غیر ترتیل کے ساتھ پڑھا جانے والا قرآن کریم اللہ کو پسند نہیں ہوگا ۔قاری واصف عثمانی نے کہا کہ قرآن کریم کے ایک لفظ پڑھنے پر دس نیکوں کا وعدہ ہے اس کے پڑھنے والے کو جس طرح ہر لفظ پر دس نیکوں کا اجر ملتا ہے اسی طرح سننے والے کو بھی برابر کا اجر ملتا ہے ۔اس سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ قرآن کریم کو ہر حال میں ٹہر ٹہر کر اور سمجھ کر پڑھا جائے۔انہوں نے کہا کہ قرآن شریف کی تلاوت کرنے والوں بالخصوص حفاظ کو قرآن کے رموز ونکات اور اصولوں کو ذہن نشین کرنا چاہئے تاکہ علامتوں کے اعتبار سے قرآنی آیات کی تلاوت کی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ امام وخطیب جہری نمازوں میں قرآن کے تمام رموز نکات کا خاص خیال رکھتے ہیں اسی طرح تراویح کے دوران بھی حفاظ کو ان رموز ونکات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم خشوع وخضوع اور ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔












