نئی دہلی 18مئی، سماج نیوز سروس:کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی کے جہانگیر خان کو فالٹا ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے زیر التوا ایف آئی آرز میں 26 مئی تک “کوئی سخت کارروائی نہ کرنے” کی ہدایت بھی جاری کی۔عدالت نے کہا:”جمہوری جذبے کو برقرار رہنے دیا جائے۔‘‘موصولہ تفصیلات کے مطابق فالٹا سے ترنمول کانگریس کے امیدوار جہانگیر خان کو کلکتہ ہائی کورٹ نے عبوری تحفظ فراہم کر دیا ہے۔ پیر کے روز ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اس اسمبلی حلقے میں انتخابی عمل مکمل ہونے تک پولیس جہانگیر خان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کر سکتی۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے اپنے حکم میں کہا کہ ترنمول امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے کا پورا موقع دیا جائے، اور وہ تحقیقات میں تعاون کریں گے۔ اب تک ان کے خلاف درج ہونے والی تمام ایف آئی آرز کے معاملے میں انہیں یہ تحفظ حاصل رہے گا، جو 24 مئی تک برقرار رہے گا۔ پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ فلتہ تھانے میں جہانگیر کے خلاف پہلی ایف آئی آر 5 مئی کو درج کی گئی تھی۔ اس کے بعد 10 مئی کو ان کے خلاف مزید تین اور 15 مئی کو پانچواں مقدمہ درج کیا گیا۔ ان پر ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے اور انتخابی دھاندلی جیسے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ جہانگیر خان نے ان مقدمات کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کئے گئے ہیں تاکہ انہیں فلتہ میں پولنگ سے پہلے گرفتار کیا جا سکے۔ انہوں نے اپنے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات بھی مانگی تھیں، جس پر عدالت نے پولیس کو سات دنوں کے اندر ایف آئی آر کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 26 مئی کو ہائی کورٹ کے تعطیلاتی (وکیشن) بینچ میں ہوگی۔
