بیدر۔ 25؍مئی، سماج نیوز سروس :تحریک کو ہندی میں آندولن کہتے ہیں۔ آزادی کی تحریک کامزاج اہنساتھا۔ فسطائی تحریک ہندوراشٹر بناناچاہتی ہے اس کے لئے وہ مساجد کو توڑتی اور مآب لنچنگ سے کام لیتی ہیں۔ اسی طرح اسلامک موومنٹ کو جماعت اسلامی لیڈ کرتی ہے۔ وہ اقامت دین چاہتی ہے ۔ فردکاارتقا، معاشرے کی تعمیر ، اور ریاست کی تشکیل کے لئے کوشا ں ہے۔ اور تحریک (اسلامی) کامزاج بین الاقوامی ہے۔ یہ باتیں جناب توفیق اسلم خان سابق امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹرنے ’’تحریکی مزاج وکردار‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ وہ آج بید رکے نظام فنکشن ہال میں منتخب کارکنان مردوخواتین جماعت اسلامی ہندعلاقہ کلبرگی کے دوروزہ تربیت گاہ میں مردوخواتین سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزید بتایاکہ زندگی کے کسی بھی شعبہ کو جماعت اسلامی ہند نہیں چھوڑتی ، تمام شعبہ جات پرعمل آوری اس کے لئے کوشاں رہنا جماعت اسلامی (تحریک اسلامی) کامزاج ہے۔ جماعت اسلامی حرکت وعمل میں یقین رکھتی ہے۔ اسلام کی دعوت کاکام کیاجائے۔ غریبوں کی امداد ہو، زلزلہ کے موقع پر انسانیت کی امداد کے لئے ہم دوڑیں۔ موصوف نے تحریکی مزاج وکردار عنوان کے تقاضے پیش کرتے ہوئے کہاکہ (۱) حرکت وعمل (۲) اللہ سے محبت ، اللہ کے لئے محبت (۳)اللہ کی مخلوق سے محبت اور دیگر نکات کے ذریعہ تقاضوں کو پور اکیاجاسکتاہے۔ انھوں نے سیاسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ جماعت سیاست کو شجر ممنوعہ نہیں سمجھتی ۔ اور وقت پر انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔ اور ہمارایہ یقین ہے کہ بلتکاری اور بھرشٹا چاری لوگ نہیں بلکہ ہم ہی بھارت کو بلتکار اور بھرشٹاچار سے مکتی دِلاسکتے ہیں۔ ہمارے ملک بھارت کو سونے کی چڑیا ہم ہی بناسکتے ہیں۔ موصوف نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمتہ کی مختلف کتابوں کاحوالہ بھی دیا۔ اور کہاکہ قول وعمل میں فرق رکھنے والا کردار ہماری جماعت میں نہیں پایاجاتا۔ جماعت سے وابستہ ہرایک شخص ایثاروقربانی سے کام لیتاہے۔ وہ عہدوں کی خواہش نہیں رکھتا۔
جناب محمدیوسف کنی سکریڑی حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے ’’جماعت اسلامی ہند اور دیگر دینی جماعتیں ۔ ایک تقابلی مطالعہ‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہل حدیث ، تبلیغی جماعت اور دیگر جماعتوں سے متعلق بات کی اور کہاکہ اقامت دین کاخیال تمام جماعتوں کے اندر پایا جاتارہاہے۔ اور اس کے لئے ہر دور میں تمام دینی جماعتوں نے اپنے اپنے طورپراپنے انداز میں کام کیاہے۔ جبکہ جماعت اسلامی ہند دین کی اقامت کے لئے اپنے آغاز سے ہی کوشاں رہی ہے۔ اگست 1941ء میں جماعت اسلامی تشکیل پاگئی تواس کی پوری روداد لکھ کر مولانا منظورنعمانی صاحب ؒنے مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کو روانہ کی اور نوٹ لکھاکہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوچکے ہیں۔ اس روداد میں قرآن وسنت کے خلاف اگر ایک بھی جملہ ہوتو اس کی نشاندہی فرمائیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے لکھاکہ میں نے پوری روداد میں قرآن وسنت کے خلاف ایک بھی جملہ نہیں پایا۔آپ لوگ اپنے کام کوجاری رکھ سکتے ہیں۔ جناب محمدیوسف کنی نے کہاکہ جماعت اسلامی ہند مسلکی جماعت نہیں ہے۔ یہ مکمل دین کی بات کرتی ہے۔عقیدہ (لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ) ، مقصد اور نصب العین(اقامت دین) ، طریق کار(قرآن وسنت ) ، اور نظم جماعت ۔ یہ باتیں دیگر جماعتوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ یہاں موجود شرکاء یہاں سے واپس جاکر اپنے مطالعہ کو وسعت دیں۔ ان سے قبل ڈاکٹر محمد سعدبلگامی امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے ’’ہمارانصب العین اورطریق کار‘‘ جناب محمد آصف الدین رکن شوریٰ کرناٹک نے ’’کلمہ طیبہ کامفہوم اور تقاضے ‘‘ عنوان پر خطاب کیا۔ جب کہ پروگرام کی ابتدا ء درس قرآن (سورہ توبہ 38تا42) سے ہوئی جس کو ڈاکٹر مولانا محی الدین غازی فلاحی نے دیا۔ افتتاحی کلمات جناب رفیق احمد ناظم علاقہ نے پیش کئے۔ پروگرام جاری ہے۔ شب میں اور کل بھی پروگرام چلتارہے گا۔
تصویر منسلک ہے












