ممبئی19فروری، پریس ریلیز،ہمارا سماج:جماعت اسلامی ہند، مہاراشٹر کے امیر حلقہ مولانا الیاس خان فلاحی نے ریاست میں مسلمانوں کے لیے 5 فیصد ریزرویشن باضابطہ ختم کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔مولانا الیاس خان نے مزید کہا اگرچہ حکومت اپنے فیصلے کو جائز قرار دینے کے لیے قانونی ضوابط کا سہارا لے رہی ہے، لیکن ایک آئینی جمہوری حکومت میں سبھی شہریوں کے لیے انصاف کے اصول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے فیصلے جو لاکھوں طلبہ اور مسلمان کمیونٹی کے روزگار کے متلاشیوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، انہیں ووٹ بینک اور انتقامی سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔جماعتِ اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیر نے مسلمانوں کی معاشی تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی اور ملک کے مین اسٹریم سے مسلمانوں کو جان بُوجھ کر حاشیے پر رکھنے کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم کمیونٹی کے بڑے حصے اب بھی تعلیمی پسماندگی، غیر یقینی روزگار، اور سرکاری ملازمت میں انتہائی کم نمائندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔مولانا الیاس خان نے آگے اپنے بیان میں یہ بھی فرمایا کہ بغیر کسی معنی خیز متبادل پیش کیے ایک طویل التوا کی شکار پالیسی کو نافذ کرنے کی بجائے مسترد کرنا، امتیاز اور غیر شمولیتی رویے کا پیغام دیتا ہے۔ آئینی اقدار مساویانہ سلوک، وقار اور بھائی چارہ کا تقاضا کرتی ہیں۔ سیکولرازم کا مطلب ہے کہ ریاست ہر کمیونٹی کو سماجی اور اقتصادی اخراج سے بچائے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو حاشیے پر دھکیل دیے گئے ہیں۔ کسی بھی پالیسی کے فیصلے میں قانونی تعمیل اور سماجی انصاف کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔جماعتِ اسلامی ہند، مہاراشٹر کے امیر نے ریاست میں مسلمانوں کے لیے پانچ فیصد ریزرویشن دوبارہ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے آخر میں یہ بھی کہا کہ اچھی حکمرانی کا مطلب ہے کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا اور سب کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا۔












