بلال بزاز
سر ینگر، جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے اور پاکستان کو اس کے بارے میں بات کرنے کا حق نہیں ہے کی بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر سیاحت جی کیشن ریڈی نے کہا کہ لوگ جموں کشمیر میں ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عام لوگ یہی امید اور توقع رکھتے ہیں۔ اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے نظریہ کے تحت جموں و کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں G20ٹورازم ورکنگ گروپ کی تیسری میٹنگ کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر سیاحت جی کیشن ریڈی نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بحران سے لڑ رہا ہے اور اسے اپنی حالت زار پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا ’’ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لوگوں کے فائدے کے لیے کرتے ہیں۔ پاکستان کون ہے جو کچھ کہے۔ اس کا کیا حق ہے؟جموں کشمیر آزادی کے بعد سے ہندوستان کا حصہ رہا ہے۔ یہ ہماری سرزمین ہے، یہ ہمارے لوگ ہیں اور اس کے لیے ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ پاکستان کون ہے جو کچھ کہے۔‘‘ریڈی نے مزید کہا ’’پاکستان اپنی طرف توجہ دے اور اپنے عوام کی بہتری کے لیے کچھ کرے۔ انہیں روزگار، خوراک مہیا کرو… تم ہمارے بارے میں کیوں بات کر رہے ہو؟ تمہارا کوئی حق نہیں ہے‘‘‘۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ خوش ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز ان کے لیے سب کچھ کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔پاکستان کی باتوں کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان ختم ہو گیا۔ ہمیں پاکستان کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں جموں کشمیر کے لوگوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ سیاحت پر مرکز کے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر ریڈی نے کہا کہ ہندوستان جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ جیسی مشہور سیاحتی ریاستوں میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے سیاحتی سربراہی اجلاس منعقد کرے گا۔وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت چاہتی ہے کہ دنیا بھر سے لوگ آئیں اور سیاحتی مقامات پر سرمایہ کاری کریں تاکہ انہیں عالمی معیار کا بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سرینگر میں G20اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو ایک تاریخی شہر ہے۔ تاہم کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی پڑیں کیونکہ اتنے سالوں بعد یہاں ایسا واقعہ رونما ہو رہا ہے۔ جموں و کشمیر نے بہت سے واقعات دیکھے ہیں، جموں و کشمیر میں مختلف مسائل تھے، لیکن اب یہاں کا ماحول بہت اچھا ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں جموں و کشمیر کی جی ڈی پی میں سیاحت کی شراکت کو دوگنا کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے میٹنگ میں تعاون کرنے پر جموں و کشمیر کے عوام اور حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے وقتوں میں سری نگر نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے نمبر ایک مقام بن جائے گا اور ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے لیے کام کریں گے۔پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کے اس تبصرہ پر کہ بی جے پی نے G20اجلاس کو ہائی جیک کر لیا ہے، ریڈی نے کہا کہ کچھ اپوزیشن جماعتیں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن نہیں چاہتیں۔
انہوں نے کہا ’’آج آزادی کے بعد پہلی بار ترقیاتی کام تیز رفتاری سے ہو رہے ہیں۔ اس لیے میں اپوزیشن جماعتوں سے حمایت کی اپیل کرتا ہوں، اور اگر آپ حمایت نہیں کر سکتے تو خاموشی سے گھر بیٹھیں اور رکاوٹ نہ بنیں۔‘‘مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ کوئی بھی جموں و کشمیر کو باقی ہندوستان سے الگ نہیں کر سکتا، اور اپوزیشن جماعتوں پر جموں کشمیر کے لوگوں کی توہین کرنے کا الزام لگایا۔ہم مل کر جموں و کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ آپ کو جموں و کشمیر یا اس کے لوگوں کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔












