سری نگر، جموں و کشمیر وقف بورڈ اور جموں و کشمیر پولس کے درمیان عیدگاہ میدان میں عید کی نماز کو لے کر رسہ کشی نے وادی میں کشمکش اور کشیدگی والے حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ وقف بورڈ نے صاف طور پر نماز پڑھے جانے کا اعلان کر دیا ہے اور مقامی انتظامیہ نے نماز کے تعلق سے اہم جانکاریاں بھی فراہم کر دی ہیں۔ لیکن جموں و کشمیر پولس نے سیکورٹی اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے اس قدم کو ہری جھنڈی نہیں دے رہی۔دراصل تنازعہ گزشتہ دنوں اس وقت شروع ہوا جب جموں و کشمیر وقف کی صدر اور بی جے پی لیڈر ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے اعلان کیا کہ اس سال دفعہ 370 منسوخ ہونے کے بعد پہلی بار تاریخی عیدگاہ میں اجتماعی عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ اجتماعی نماز کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد عیدگاہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے درخشاں اندرابی نے کہا کہ ’’اگر موسم نے ساتھ دیا تو نماز ادا کی جائے گی۔ کشمیر میں اب اچھا ماحول ہے اور انتظامیہ کی کوشش ہے کہ عید کی نماز عیدگاہ میں ہی ہو۔‘‘دوسری طرف جموں و کشمیر پولس بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں اور تشدد کے پچھلے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے عیدگاہ میدان میں اجتماعی عید کی نماز کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ جموں و کشمیر پولس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے یہ اعتراف کیا کہ سیکورٹی کے نظریہ سے بہتری دیکھنے کو ملی ہے اور سری نگر پرامن ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس معاملے میں آخری فیصلہ ضلع انتظامیہ لے گا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وقف بورڈ نے پہلے ہی مناسب سہولیات کے ساتھ عیدگاہ میدان کی تعمیر نو کا کام شروع کر دیا ہے۔ پھر بھی عیدگاہ میدان میں اجتماعی عید کی نماز کا امکان کم ہی نظر آ رہا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ اعلیٰ پولس افسر نے سونمرگ میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جہاں تک علاقے میں نظامِ قانون کی حالت کا سوال ہے، تو افسران کوئی جوکھم نہیں اٹھائیں گے اور عیدگاہ میں زبردست بھیڑ کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔‘‘ پولس افسر نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم عیدگاہ میں نماز کی اجازت نہیں دے سکتے، کیونکہ عید کی نماز کے بعد ہمیشہ احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ زمین پر امن یقینی کرنے کے لیے اگر تھوڑی بہت قربانی دینی پڑے تو برا نہیں۔‘‘












