بیجنگ:جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکائیچی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر جاپان، ایران کے ساتھ براہِ راست رابطوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔پارلیمنٹ میں گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ جاپان نے مختلف سطحوں پر ایران کے ساتھ مسلسل قریبی رابطہ رکھا ہے۔ انہوں نے خلیج فارس میں جاپان سے متعلق جہازوں سمیت کئی جہازوں کے پھنسنے پر تشویش ظاہر کی اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں تمام جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ جاپان ان براہِ راست رابطوں کے ذریعے محفوظ جہاز رانی کے لیے حل تلاش کرتا رہے گا، کیونکہ یہ ضروری ہے کہ جاپانی جہازوں سمیت تمام جہازوں کی آمد و رفت محفوظ رہے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران اسرائیل اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔












