نئی دہلی،
میں ڈاکٹر سید نصیر حسین، ممبر پارلیامنٹ راجیہ سبھا
محترم چیئرمین پارلیمنٹ ہاؤس راجیہ سبھا،نئی دہلی سے گذارش کرتا ہوں کہ 27 مارچ 2023 کے لیے رول 267 کے تحت مندرجہ ذیل تحریک پیش کرنے کے لیے ریاستوں کی کونسل (راجیہ سبھا) میں قواعد و ضوابط کے اصول 267 کے تحت نوٹس دیتا ہوں: ’’کہ یہ ایوان زیرو آور اور وقفہ سوالات اور دن کے دیگر کاموں سے متعلق متعلقہ قواعد کو معطل کرتا ہے تاکہ اڈانی گروپ کے کاروباری مفادات کو فروغ دینے میں حکومت کے کردار کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ کارپوریٹ فراڈ، سیاسی بدعنوانی، اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور مالیاتی بدانتظامی، کوئلے کی کانوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ، بڑے پراجیکٹس کے لیے بیرونی ممالک کے ساتھ مذاکرات وغیرہ کے سنگین الزامات پر عدم فعالیت کی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے ۔
آپ کا مخلص،
(ڈاکٹر سید نصیر حسین)
مشت از خروارے یہ ایک مثال ہے .جبکہ سچ یہ ہے کہ اس پورے بجٹ سیشن میں تمام حزب اختلاف کے ممبران پارلیامنٹ ہر روز اسی مضمون کی درخواست ایوان بالا اور ایوان زیریں میں لگاتے رہتے ہیں لیکن چیئرمین کی طرف سے خاموشی اور صرف خاموشی ہے۔اب اگر قانون ساز اداروں کے ممبران کی آواز بھی ارباب حل وعقد تک نہیں پہنچ رہی ہے تو پھر اس آئین کے مندر کا عوام سے کیا تعلق۔
ایک بزنس ٹائیکون سے وزیر اعظم کی محبت کی جو مثال بھارت میں قائم ہو رہی ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔جمہوری اقدار کے تار تار ہوتے دامن کو صرف احتجاج کی سوئی سے سینا کتنا ممکن ہے یہ دیکھنے کی چیز ہے ۔تازہ خبر کہ مطابق آج 27 مارچ کو بھی پارلیامنٹ میں ہنگامہ ہی ہوتا رہا۔ متعدد اپوزیشن لیڈر کالے کپڑے اور کالی پٹی ڈال کر ہاؤس میں آئے ۔
اس تعطل کے پورے دور کے بارے میں جب کانگریس ممبر آف پارلیامنٹ ڈاکٹر سید نصیر حسین سے بات ہوئی جو ہر روز اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ کانگریس صدر کے پارلیمنٹ دفتر میں موجود ہوتے ہیں ،کہ کیا یہ تعطل بھی کانگریس کے حملے کی کوئی اسٹریٹیجی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ کانگریس ایک اصول پسند پارٹی ہے اور ابھی سارے کانگریس سمیت اپوزیشن کے لوگ صرف جے پی سی کی تشکیل چاہتے ہیں اور راہل گاندھی کی معطلی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بی جے پی کی سرکار اور خود مودی جی بری طرح خوفزدہ ہیں کہ اڈانی اور ان کا رشتہ منظر عام پر نہ آ جائے۔ڈاکٹر نصیر نے مزید فرمایا کہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگےکی قیادت میں کانگریس کا ایک ایک فرد مضبوطی کے ساتھ اپنی جائز مانگ پر اڑا ہے اور کانگریس کے ساتھ ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں کھڑی ہیں۔نصیر حسین نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا نعرہ دہرایا کہ ہم لڑینگے اور جیتیں گے۔












