ایک بہترین جج وہی ہو سکتا ہے جو غیر جانبدارانہ اپنی ذاتی رائے اور نظریات سے عدالتی فیصلوں کو دور رکھے، اور دانشورانہ قوت کا ماحول ہو، اس میں تاریخ داں کی طرح سچائی کی قوت ہونی چاہیے جو حقائق پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں حال اور مستقبل کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے، اس کے فیصلے ایسی مذکورہ بنیادوں پر صحیح ثابت ہوتے ہوئے یکسر غیر جانبدارانہ ہوں۔اسی لیے سابق چیف جسٹس یویوللت نے اپنے ریٹائرمنٹ کے بارے میں اپنے خیالات پیش کئے تھے، انھوںنے کہا تھا کہ ’’وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری تقرریوں کو قبول کرنے کے مخالف نہیں ہیں؛ لیکن وہ اپنے لیے راجیہ سبھا ک رکن یا کسی ریاست کا گورنر بننے کی تجویز کو قبول نہیں کریںگے کیونکہ چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد یہ مناسب نہیں ہے۔
لیکن سیاسی شخصیات قانون کو کسی بھی حد تک غیر جانبدارانہ صورت میں برقرار نہیں سکتیں، وہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے مطابق ہی سوچ سکتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قانون ساز ی میں پارلیمنٹ کا عمل دخل ہوتا ہے اپوزیشن کے ممبران کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور اس قانون کو پاس کرنے کے لیے یعنی قانون کی ایسی صورت پیدا کرنے کے لیے کہ وہ ہر پیرائے سے کچھ لوگوں کے حق میں نہ ہوتے ہوئے ملک کے عوام کی مرضی اور ان کی سہولایت کے لیے صحیح اور مفید ثابت ہو۔ بل کی صورت دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے ممبران سے بحث کرائی جاتی ہے، قانون وضع کرنے میں کن کن دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ قانون ساز ہی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس پر انتہائی سنجیدگی اور غور و فکر کے ساتھ سوچا جانا چاہیے کہ ملک کے عوام اس سے متفق ہوتے ہوئے اسے قبول کریں۔ اور جہاں تک ان کی ضروریات رفع ہونے کا سوال ہے عوام کو کوئی دشواری نہ ہو، کسی بھی قانون سے ایسا احساس نہیں ہونا چاہیے کہ یہ قانون قانون ساز اداروں نے چند خاص ہستیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا ہے بلکہ قانون کی ایسی صورت ہونی چاہیے جو مکمل طور پر ملک کے عوام کے مفاد میں ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ قانون انسانی حقوق کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہے جو عوام کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہی صورت حال عدلیہ کے لیے بھی درپیش ہے کہ وہ اس قانون کی صحت، اہمیت اور اصل حقائق و مقاصد کو سمجھتے ہوئے اپنی ذاتی رائے اور رجحانات سے مبرا رکھتے ہوئے غیر جانبدارای سے فیصلے صادر کرے۔ اس کے علاوہ اگر عدلیہ قانون میں کسی بھی قسم کی کوتاہی محسوس کرتی ہے یعنی قوانین کی طے کردہ حدود یا آئینی حدود سے قانون تجاوز کررہا ہے یااس قانون کی کوئی دفعہ قانون کی طے کردہ حدود سے تجاوز کررہی ہے، قانون یا اس قانون کی کوئی بھی دفعہ ملک کے عوام کے لیے انتہائی اذیت ناک ثابت ہوتی ہے یا اس سے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں تو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ اس قانون یا اس قانون کی کسی بھی دفعہ کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ کیونکہ ملک کا قانون آئینی صورت میں ملک کے عوام کی سہولیات کے لیے وضع کئے جاتے ہیں کیونکہ عدلیہ کو قانون کی جانچ کرنے کی صلاحیت اور قانونی اختیار حاصل ہے اس لیے عدلیہ کی اولین اور ترجیحاتی کوشش یہ ہی ہوتی ہے کہ قانونی نظام ایسا ہونا چاہیے جو ملک کے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے کیونکہ آئینی قوانین کے اصل مقاصد ملک میں امن قائم کرنا ہے تاکہ عوام پرسکون زندگی بسر کر سکیں۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ ملک کے عوام کے بنیادی حقوق چھین سکے۔ جہاں تک پارلیمنٹ کے ذریعہ حکومت کا کام قانون بنانے کا ہے، اس قانون کا جائزہ اگر عدالت لیتی ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہے جس سے ملک کے عوام میں قانون کے تئیں مکمل اعتماد پیدا ہوگا اور کسی قسم کی ایسی کوئی بات پیدا ہونے کا امکان پیدا نہیں ہوگا کہ یہ بات قانون کے مطابق صحیح ہے یا غلط۔ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس آف انڈیا این۔وی۔ رمن نے ایک بار کہا تھا کہ عدلیہ صرف آئین کے سامنے جواب دہ ہے، وہ کسی کے دباؤ میں آنے والی نہیں ہے۔ وہ صرف اور صرف اپنی آئینی ذمہ داریوں کو نبھاتی ہے، وہ نہ حکمراں جماعت کی کسی پالیسی کی حمایت کرتی ہے اور نہ حزب اختلاف کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہے، ان کے اصل مقاصد یہ ہی ہیں کہ عوام قانون کے سہارے آرام کی زندگی بسر کریں۔ ایسی صورت میں اگر ججز کسی ایسے معاملے میں جس سے ملک کی صورت حال بگڑتی ہوئی نظر آرہی ہو تو اپنی ضمنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اس پر غور کرنا چاہیے کیونکہ جب آئین کی رو سے اظہار کی آزادی ملک کے عام آدمی کو حاصل ہے تو ججز بھی اپنی ضمنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ان کی یہ ضمنی رائے قانونی صورت میں کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود ان کی ضمنی رائے ملک کے مفاد میں ہی ہوتی ہے؛ لیکن ان ججز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس طرح موجودہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان ججوں کی تقرری کے سلسلے میں تکرار جاری ہے۔ عدلیہ کا کہنا ہے کہ ججز کی تقرری کولیجم کے ذریعہ ہی ہونی چاہیے اگر اس میں حکومت کا عمل دخل ہوگا تو یہ رنگ سیاسی رنگ ہوگا جو اس ملک کی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ دوسری جانب وزیر قانون کا کہنا ہے کہ عدلیہ کسی قانون کو کیسے وضع کر سکتا ہے جبکہ اس کے قانو ن کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے؛ لیکن عدلیہ کو اس کولیجم کے ذریعہ یہ اختیار حاصل ہے کہ عدالت کے لیے باصلاحیت ججوں کو منتخب کرے۔ حالانکہ اس کولیجم نظام میں اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ ججوں کی حیثیت سے تقرری کے لیے جن ناموں کو پیش کیا گیا ہے حکومت سی بی آئی کے ذریعہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہے؛ لیکن اس کے باوجود حکومت چاہتی ہے کہ ججوں کے ذریعہ ججوں کا انتخاب ہبند ہونا چاہیے۔ اگر کولیجم بند کیا جاتا ہے تو دوسری جانب عوام کی نگاہوں میں عدلیہ کی غیرجانبداری غیر اہم ہوجائے گی۔ حالانکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کولیجم نظام میں بھی نقائص ہیں، سپریم کورٹ میں تقریباً ساٹھ ہزار سے بھی زیادہ مقدمات زیر سماعت ہیں۔ زیر سماعت مقدمات کی اتنی بڑی تعداد عدولتوں میں ججوں کی کمی کی وجہ سے ہے اور عدلیہ کی طویل تعطیلات بھی وجہ ہے۔ عدالتوں میں ججوں کی کمی سالہا سال سے چلی آرہی ہے اور اس کا بھگتان ججوں کو ہی کرنا پڑرہا ہے۔ مجموعی اعتبار سے ساڑھے تین کروڑ سے بھی زائد مقدمات اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ ہند اور وزیر قانون دونوںہی عدلیہ پر سخت تنقید کررہے ہیں جس پر عدلیہ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے، یہ تکرار اس لیے جاری ہے کہ حکومت کولیجم نظام کے خلاف ہے کیونکہ حکومت اس میںاپنا عمل دخل چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جار سینئر جج کی ایک کمیٹی ججوں کی تقرری کے لیے جو نام حکومت کو بھیجتی ہے حکومت ان ناموں کو واپس کرنے کا اختیار رکھتی ہے؛ لیکن پھر وہی دوبارہ نام بھیجے جاتے ہیں تو حکومت کو وہ نام منظور کرنے پڑتے ہیں۔ حکومت جن ناموں کو پسند نہیں کرتی وہ نام اس نے واپس بھیج دئیے تھے؛ لیکن دوبارہ بھیجے جانے پر حکومت ناراض ہے۔ یہ ہی صورت حال عدلیہ اور حکومت کے درمیان تکرار پیدا کررہی ہے اور اب وزیر قانون نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام ایک مکتوب لکھا ہے اس میں انھوںنے کہا ہے کہ ججوں کی تقرری میں حکومت کا نمائندہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ اس پر اپوزیشن سخت خلاف ہے۔اس کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے ایسے مذکورہ عمل سے عدلیہ پر مسلط ہونا چاہتی ہے اور عدلیہ کے آئینی اختیار کو ختم کرنا چاہتی ہے جس سے کئی طرح کے عوامی سطح کے نقصانات ہوںگے، سپریم کورٹ نے کولیجم کے ناموں کو نامنظور کرنے پر حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو فوراً حل کرے۔ نہیں تو عدالت خود فیصلہ لے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ۲۱؍نام ڈیڑھ سال سے التواء میں ہیں؛ لیکن حکومت نے ججوں کی تقرری کے لیے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ آپ ملک کے قانون کی تعمیل نہیںکرتے، کبھی کبھی قانون کو عدالت نافذ کراتی ہے اور آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے ۔ آپ کو اسے نافذ کرنا ہوگا۔ بھیجے گئے ناموں کو حکومت غیر معینہ عرصے کے لیے نہیں روک سکتی اور اضافی معلومات کا حوالہ دے کر سفارش کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ حکمراں جماعت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ عدلیہ حکومت کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اس کی تائید کرے اور حزب اختلاف یہ چاہتاہے کہ عدلیہ ان کے سیاسی نظریات کو پروان چڑھائے جبکہ عدلیہ قانونی صورت میں ملک اور عوام کی سہولیات کو ترجیح دیتی ہے۔ عدلیہ بہرحال عدلیہ ہے جو قانون، جمہوریت اور آئین کی طرف دار ہے اور محافظ ہے؛ لیکن حکومت سے تکرار میں آئینی صورت میں کیا نظر آئے گا کچھ نہیںکہا جاسکتا؛ البتہ صورت حال جمہوریت کو خطرے میں گھیرتی ہوئی نظر آرہی ہے کیونکہ جمہوریت کی بنیاد نظام عدل پر ہے اور اگر عدل تزلزل کا شکار ہوگا تو جمہوریت کمزور ہوگی۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ملک کے شہریوں کو آئین ہند اور جمہوریت سے متعلق واقفیت ہونی چاہیے کیونکہ ایسی عدم واقفیت سے ملک کے سیاسی لیڈر فائدہ اٹھاتے ہیں۔












